خطبة اِلہامِیّة — Page 25
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۵ خطبه الهاميه اب ہمارے مخالف گو اس دمشقی حدیث کو بار بار پڑھتے ہیں مگر وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے کہ یہ جو اس حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ مسیح موعود د مشق کی شرقی طرف کے منارہ کے قریب نازل ہوگا اس میں کیا بھید ہے بلکہ انہوں نے محض ایک کہانی کی طرح بقیه حاشیه پس چونکہ مسیح اور مہدی موعود کا زمانہ زمان البرکات تھا اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کے حق میں فرمایا بَارَكْنَا حَوْلَۂ یعنی مسیح موعود کی فرودگاہ کے اردگرد جہاں نظر ڈالو گے ہر طرف سے برکتیں نظر آئیں گی چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ زمین کیسی آباد ہوگئی باغ کیسے بکثرت ہو گئے نہریں کیسی بکثرت جاری ہو گئیں تمدنی آرام کی چیزیں کیسی کثرت سے موجود ہوگئیں ۔ پس یہ زمینی برکات ہیں۔ اور جیسے اس زمانہ میں زمینی اور آسمانی برکتیں بکثرت ظاہر ہوگئی ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تائیدات کا بھی ایک دریا چل رہا تھا۔ فحاصل البيان ان الزمان زمانان زمان التائيدات ودفع الآفات و زمان البركات والطيبات واليه اشار عزاسمه بقوله سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ فاعلم ان لفظ مسجد الحرام في قوله تعالى يدل على زمان فيه ظهرت عزة حرمات الله بتائيد من الله وظهرت عزة حدوده و احکامه و فرائضه وتراء ت شوكة دينه ورعب ملّته۔ وهو زمان نبينا صلى الله عليه وسلم۔ والمسجد الحرام البيت الذي بناه ابراهيم عليه السلام في مكة وهو موجود الى هذا الوقت حرسه الله من كل آفة۔ وامـا قــولـه عــراســمـه بعد هذا القول اعنى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ فيدل على زمان فـيــه يظهر بركات في الارض من كل جهة كما ذكرناه أنفا وهو زمان المسيح الموعود والمهدى المعهود والمسجد الاقصى هو المسجد الذي بناه المسيح الموعود في القاديان