خطبة اِلہامِیّة — Page 264
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۶۴ خطبه الهاميه بعد ذالك انتـقـلـت مـن حيـث الــروحــانيـة مـن از روحانیت راه کے روحانیت پر الكمالات الكوكبية إلى الكمالات القمرية، ومن از کمالات کوکبیت بسوئے کمالات قمریت و از کمالات قمری کمالات کی طرف اور کوبی الأنوار القمرية إلى الأشعة الشمسية، وكانت انوار قمریت بسوئے شعاعہائے شمسیت انتقال قمری انوار شمسی شعاعوں کی طرف انتقال فرمایا ނ فرمود هذه الانتقالات كلها مظاهر ترقيات العالم ہمہ انتقالات مظاہر ترقیات عالم إلى معارج الحقيقة الإنسانية ۔ كَأَنَّ الإنسان بسوئے معارج حقیقت انسانیت بودند و این راز را در لفظ دیگر اور اس راز کو بایں طور تواں فہمید دوسرے لفظوں میں اس طرح سمجھنا چاہیے پر كان فى وقت جمادًا، وفى وقت آخر نباتا، وبعد که انسان ور وقت جماد بود و وقت دیگر نبات و بعد ازاں که انسان ایک وقت جماد تھا اور دوسرے وقت نبات اور اس کے بعد ذالک حیوانا، وبعد ذالک کوکبًا وقمرا وشمسا حیوان و بعد ازاں کوکب , و شمس قمر بود حیوان اور اس کے بعد ستاره اور چاند اور سورج تھا حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ بمطابق عربی عبارت اردو ترجمہ میں اور یہ سب انتقالات مظاہر ترقیات عالم کے حقیقت انسانیہ کے معارج کی طرف تھے “ درج ہونا چاہیے۔(ناشر)