خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 263

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۶۳ خطبه الهاميه طلعت في اليوم الخــامــــس لـمَـا خُلق إلى هذا ور روز پنجم طلوع فرمود پانچویں زیرا که دن مین طلوع فرمایا کیونکہ اس ایس روز دن تک اليـوم كــل مــا كـــان مـن أجزاء هــويتـــه وحـقـيـقـة ہمہ آنچه از اجزائے ہویت کچھ جو اس کی ہویت کے اجزاء سے , اور اس کی ماہیت ماهيته، فإن الأرض بجميع مخلوقاتها و اہیت وے بود پیدا گردید۔ که زمین مع ہمہ مخلوقات وے کی حقیقت سے تھا پیدا ہو گیا کیونکہ زمین اپنی تمام مخلوق کے ساتھ اور مصنوعاتـهـا كـانـت حـقـيـقـة السـ آسمان جمله مصنوعات وے حقیقت آسمان اپنی تمام مصنوعات کے ساتھ آدم کی ہویت آدم بود گویا ہویت کی حقیقت تھے۔ گویا آدم کا الحـ هويّة آدم كــان مــــادتـــه قـد انـتـقـلـت مـن (۱۷٥) مادة آدم مادہ تھا۔ گویا آدم کا مادہ قة الجمادية إلى الحقيقة النباتية، ثم از حقیقت جمادی بسوئے حقیقت نباتی و جمادی حقیقت نباتی حقیقت کی طرف اور من الحقيقة النباتية إلى الهوية الحيوانية، ثم از نباتی بسوئے حیوانیت منتقل ہویت شد باز نباتی حقیقت حیوانیت کی ہویت کی طرف منتقل ہوا پھر حلا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ بمطابق عربی عبارت فارسی ترجمہ میں ” گویا مادہ آدم “ بھی ہونا چاہیے۔(ناشر)