خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxv of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page xxv

’’الیوم یئس الذین کانوا یصولون علی الاسلام‘‘ ( لُجّۃ النُّور۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۴۷۵) یعنی آج اسلام پر حملہ آور کفار نا امید ہو گئے ہیں اور تحدیث نعمت کے طور پر فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے مصلحین کی تمام شرائط مجھ میں جمع کر دی ہیں اور اس نے مجھے ہر قسم کی برکات سے نوازااور میری ہر آرزو پوری کی اور ہر قسم کی دینی و دنیوی نعمتوں سے مجھے مالا مال کیا ہے۔ان نعمتوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے اس نعمت کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ بعض اوقات انسان اس خیال سے افسردہ اور دل شکستہ اور غمگین رہتا ہے کہ اس کا کوئی بیٹا نہیں ہوتا جو اس کی وفات کے بعد اس کا وارث ہو مگر اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس قسم کا غم مجھے ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں ہوا۔و اعطانی ربی ابناءً ا لخدمۃ ملّتہٖ کیونکہ میرے رب نے مجھے اپنی جناب سے بیٹے عطا کئے ہیں جو دین اسلام کی خدمت کریں گے۔( لجّۃ النور۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ۳۹۸) اس کتاب میں آپ نے اس بہتان کی بھی تردید فرمائی ہے کہ نعوذ باﷲ آپ نے اپنی کتب میں صالح علماء کی ہتک کی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔’’ ہم نیک اور صالح علماء اور مہذب شرفاء کی ہتک سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں خواہ وہ مسلمان ہوں یا آریہ یا عیسائی یا کسی اور مذہب کے ہوں بلکہ ہم تو اُن کے سفہا اور بے ہودہ گو لوگوں میں سے بھی صرف ان کا ذکر کرتے ہیں جو اپنی فضول گوئی اور بد گوئی اور سبّ و شتم میں مشہور ہو چکے ہیں۔لیکن جو لوگ سفاہت اور بدزبانی سے بَری ہیں۔ہم ان کا خیر سے ذکر کرتے اور ان کی تکریم و احترام کرتے اور ان سے بھائیوں کی طرح محبت رکھتے ہیں۔‘‘ ( ترجمہ از لُجّۃ النُّور۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ۴۰۹) اور اس کتاب میں حضرت اقدس نے یہ عظیم الشان پیشگوئی بھی درج فرمائی ہے کہ ’’ اﷲ تعالیٰ میری نصرت فرمائے گا یہاں تک کہ میرا امر یا میری دعوت زمین کے مشارق و مغارب میں پہنچے گی۔‘‘ ( ترجمہاز لُجّۃ النُّور۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ۴۰۸) اصل کتاب عربی میں ہے اور اس کے نیچے فارسی زبان میں ترجمہ بھی لکھا گیا ہے۔خاکسار جلال الدین شمس