خطبة اِلہامِیّة — Page xxiv
بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔۔۔یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۷۵، ۳۷۶ نیز دیکھو نزول المسیح صفحہ ۲۱۰ و سرورق خطبہ الہامیہ) پس خطبہ الہامیہ خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان ہے جو ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۰ء کو ظاہر ہوا۔لُجَّۃُ النُّور یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اسلامی ممالک عرب اور فارس اور روم اور بلادالشام وغیرہ کے متقی بندوں اور صالح علماء اور مشائخ کو تبلیغ کرنے کے لئے بصورت مکتوب تصنیف فرمائی اور ا س کی تصنیف کا حقیقی محرک وہ الہام اور رؤیا ہوئے جن میں آپ کو اﷲ تعالیٰ نے یہ بشارت دی تھی کہ مختلف ممالک کے صلحاء اور نیک بندے آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کے لئے دعائیں کریں گے اور یہ کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو برکت پر برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ آپ کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔یہ کتاب ۱۹۰۰ء میں لکھی گئی۔کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کا ارادہ کئی باب لکھنے کا تھا (دیکھو صفحہ ۶ لجّۃ النّور) مگر ایک ہی باب آپ نے لکھا اور پھر معلوم ہوتا ہے آپ کی توجہ دوسری کتب کی طرف مبذول ہو گئی اور اس کتاب کی عام اشاعت آپ کی وفات کے بعد فروری ۱۹۱۰ء میں ہوئی۔اس کتاب کے شروع میں آپ نے اپنی کنیت ابو محمود احمد تحریر فرمائی ہے اور اس میں آپ نے اپنے دعویٰ مسیح موعود اور مہدی معہود کی صداقت ثابت کرنے کے لئے ضرورتِ زمانہ کو بطور دلیل پیش کیا ہے اور اپنے آبائی سوانح، اپنے الہام ربّانی سے مشرف ہونے اور اپنے زمانہ کے حالات کا شرح و بسط سے ذکر فرمایا ہے اور قوموں اور مذاہب میں تفرقہ کا ذکر کرتے ہوئے عالم اسلامی کی دینی اور دنیوی ابتر حالت کا نہایت المناک نقشہ کھینچا ہے۔ان کے آپس میں افتراق و انشقاق اور اُن کے عقائد فاسدہ اور مسلمان علماء اور صوفیاء اور عامۃ المسلمین کی خرابیوں اور الحاد و بے دینی اور اسلام پر حملہ آور دشمنوں کے سامنے ان کی بے کسی اور بے بسی کا تفصیلی ذکر فرمایا ہے اور آخر میں پادریوں کے حملوں کا ذکر کر کے یہ خوشخبری دی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں پر انہیں شکست فاش دی ہے اور وہ میدان سے بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور فرمایا ہے کہ