خطبة اِلہامِیّة — Page 212
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۱۲ خطبه الهاميه وكذلك يفعل بكم أيها المعتدون، ويرحمكم نزدیک است که خدا ہمیں معامله با شما بکند اے از حد گذرندگاں۔ والے صالحان! بر شما رحم اور خدا یہی معاملہ تمہارے ساتھ کرے گا اے حد سے بڑھ جانے والو۔ اور اے پرہیزگارو أيها الصالحون فاصلحوا ذات بينكم وأصلحوا آورد اکنون باید که براستی و آشتی میل آرید درست بکنید آن چیز را تم پر رحم کرے گا اب چاہیے کہ سچائی اور صلح اختیار کرو اور اس چیز کو درست کرو ما أفسدتم، ولا تقعدوا مع الذين يستكبرون که تباه کرده اید و با گردن جسے تم نے تباہ کر و کشاں ہم نشینی مکنید دیا اور مغروروں کے ساتھ نہ بیٹھو ہے أتُعجزون ربّ السماء ببطشكم أو تخدعونه آیا ممکن است که با زور و قوت خود پروردگار آسمان را مانده بکنید یا می توانید کیا ممکن ہے کہ اپنے زور اور قوت کے ساتھ آسمان کے رب ت کو تھکا دو (٣) بخديعتكم؟ كل بل إنكم على أنفسكم تظلمون ۔ که او را بفر بید ۔ ہرگز ممکن نیست بلکه ستم بر جان خود می کنید بلکہ اپنی جان پر ظلم کرتے ہو۔ ولا أقول لكم عندى علم أو قوة ۔ سبحان الله ! اور من نه می گویم که و دست من علم و قوت است۔ سبحان الله ! بلکه من میں نہیں کہتا کہ میرے ہاتھ میں علم اور قوت ہے۔ سبحان اللہ ! بلکہ میں ما أنا إلا عبد ضعيف، وأنطقني الذي يُنطِق بنده ناتوان هستم مرا ہماں خدا ایک عاجز بنده ہوں اور مجھے اسی خدا گویا نے گویائی دی ساخت