خطبة اِلہامِیّة — Page 213
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۱۳ خطبه الهاميه رسله فما لكم لا تفهمون؟ اتركوا الفاتحة، کہ رسولان خود را گویائی بخشید پس چرا نے فہمید اکنوں فاتحه را بگذارید جس نے رسولوں کو گویائی عطا فرمائی۔ پس کیوں نہیں سمجھتے۔ اب یا تو فاتحہ کو چھوڑو أو اعملوا بها حياءً من الله إن كنتم قومًا تتقون شرم یا خدا سے از خدا کرده عمل بال کنید شرم کر کے اس پر عمل کرو۔ اگر تم خدا • اگر قومے سے ڈرنے والی أتقرء ونها وهي لا تجاوز حناجركم أيها المراء ون؟ خدا ترس هستید چیست که فاتحه را می خوانید و آن از گلوئے شما نمی گذرد ہو۔ کیا بات ہے کہ فاتحہ کو پڑھتے ہو اور وہ تمہارے گلے سے نیچے نہیں اترقی وإن المغضوب عليهم هم اليهود ریا کاراں و ثابت شده ریا کارو! اور ثابت ہوا مخضوب مغضوب الذين حذركم الله من مضاهاتهم الذين فَرّطوا ہماں یہود هستند که خدا شما را از مشابه گردیدن باوشاں ترسانید آناں کہ وہی یہود ہیں جن کی طرح ہونے سے خدا نے تم کو ڈرایا اور جنہوں نے في أمر عيسى، فاسألوا أهل الذكر إن كنتم درباره عیسی تفریط کردند پس اگر علم ندارید اہل ذکر عیسی کے بارے میں تفریط کی۔ پس اگر علم نہیں رکھتے تو علم والوں سے از لا تعلمون أتنتظـرون مـن دونـی مسیحا پرسید ۔ آیا بعد از من مسیح انتظار می کشید پوچھو۔ کیا سوا میرے ایسے مسیح کا انتظار کرتے ہو