خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 200

۱۲۸ روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۰۰ خطبه الهاميه ما هذا إلا شقاوة توجب غضب الرب لما هي بختی غضب خداوندی را پیدا مے کند اس بد بختی خدا کا غضب بھڑکتا ہے کہ ایں کیونکہ , إعراض عما تؤمرون ۔ وما أسألكم على ما جئتكم بر آنچه پیش شما آورده گردانیدن است من از امر الہی رو خدا کے حکم منہ پھیرنا ہے۔ میں اس چیز پر جو تمہارے پاس لایا ہوں به من أجر ولا أقول أن انبذوا مالا من أيديكم مژدے از شما نمی خواهم و نه می گویم که مال از دست خود بر زمین بیفکنید کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ یہ کہتا ہوں کہ مال اپنے ہاتھ سے زمین پر پھینکو فـآخذه، بل أوتيكم ما لا فهل أنتم تأخذون؟ أيها و من وے را بردارم بلکه من خود شما را مال سے دہم آیا مے گیرید اور میں اسے اٹھالوں۔ بلکہ میں خود تم کو مال دیتا ہوں کیا لیتے ہو؟ ــراء مــا بـقـى فـى أيـديـكـم شيء من تنگ دستاں ! چیزے از دنیا دنیا اور آخرت میں فقیرو! و آخرت ور درست شما تمہارے پاس الدنيا والآخرة، فلا تظلموا أنفسكم وأنتم تعلمون۔ نمانده پس دانسته ظلم مکنید خود جان پر کچھ نہیں رہا۔ پس اپنی جان پر جان بوجھ کر ظلم نہ کرو اور وإن كنتم في شك من أمرى فامتحنوني كيف اگر درباره من شکے اگر میری نسبت تمہیں کچھ شک دارید پس ہے بہر طوریکه بخواهید تو مجھے جس طرح چاہو