خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page xxiii

میاں عبداﷲ صاحب سنوری کی مندرجہ ذیل خواب لکھی ہے کہ ’’میاں عبداﷲ سنوری کہتے ہیں کہ منشی غلام قادر مرحوم سنور والے یہاں آئے ہیں۔اُن سے اُنہوں نے پوچھا ہے کہ اس جلسہ کی بابت اس طرف کی خبر دو کیا کہتے ہیں۔تو اس نے جواب دیا کہ اُوپر بڑی دھوم مچ رہی ہے۔‘‘ یہ خواب بعینہٖ سید امیر علی شاہ صاحب کے خواب سے مشابہ ہے کیونکہ انہوں نے دیکھا تھا کہ جس وقت عربی خطبہ بروز عید پڑھا جاتا تھااس وقت جناب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام جلسہ میں موجود ہیں اور اس خطبہ کو سُن رہے ہیں۔یہ خواب عین خطبہ پڑھنے کے وقت ہی بطور کشف اس جگہ بیٹھے ہوئے ان کو معلوم ہو گیا تھا۔‘‘ (تذکرہ حاشیہ صفحہ ۲۹۰۔ایڈیشن چہارم) اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی خطبہ الہامیہ سے متعلق اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں:۔’’۱۱؍ اپریل ۱۹۰۰ء کو عید اضحی کے دن صبح کے وقت مجھے الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کروتمہیں قوت دی گئی۔اور نیز یہ الہام ہوا۔کَلَامٌ اُفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَبٍّ کَرِیْمٍ یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔تب میں عید کی نمازکے بعد عید کا خطبہ عربی زبا ن میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا اور خدا تعالےٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور وہ فصیح تقریر عر بی میں فی البدیہ میرے مُنہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور میں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اوّل کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے، کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الٰہی کے بیان کر سکے۔جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا لوگوں میں سُنائی گئی اس وقت حاضرین کی تعداد شاید دو سو ۲۰۰ کے قریب ہو گی۔سبحان اﷲ اُس وقت ایک غیبی چشمہ کُھل رہا تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھاکیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا خودبخود