خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxii of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page xxii

تاریخ احمدیت میں حضرت منشی ظفراحمد صاحب کپورتھلوی اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی روایات خلاصۃً تحریر ہوئی ہیں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی فرماتے ہیں کہ ’’حضور نے کھڑے ہو کر یا عباد اﷲ کے لفظ سے فی البدیہ عربی خطبہ پڑھنا شروع کیا۔آپ نے ابھی چند فقرے ہی کہے تھے کہ حاضرین پر جن کی تعداد کم و بیش دو سو تھی وجد کی ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔محو ّ یت کا یہ عالم تھا کہ بیان سے باہر ہے۔خطبہ کی تاثیر کا وہ اعجازی رنگ پیدا ہو گیا کہ اگرچہ مجمع میں عربی دان معدودے چند تھے مگر سب سامعین ہمہ تن گوش تھے۔‘‘ ( تاریخ احمدیت جلد۲ صفحہ۸۴تفصیل کے لئے دیکھئے روایات صحابہ جلد۱۳ صفحہ ۳۸۵۔۳۸۶) حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی فرماتے ہیں کہ ’’۔۔۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی حالت یہ تھی کہ آپ کی شکل و صورت زبان اور لب و لہجہ سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ آسمانی شخص ایک دوسری دُنیا کا انسان ہے جس کی زبان پر عرش کا خدا کلام کر رہا ہے۔خطبہ کے وقت آپ کی حالت اور آواز میں ایک تغیر محسوس ہوتا تھا۔ہر فقرہ کے آخر میں آپ کی آواز بہت دھیمی اور باریک ہو جاتی تھی۔اس وقت آپ کی آنکھیں بند تھیں ،چہرہ سُرخ اور نہایت درجہ نورانی۔خطبہ کے دوران میں حضور نے خطبہ لکھنے والوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر کوئی لفظ سمجھ میں نہ آئے تو اسی وقت پوچھ لیں ممکن ہے کہ بعدمیں مَیں خود بھی نہ بتا سکوں۔پھر اس قدر تیزی سے آپ کلمات بیان فرماتے تھے کہ زبان کے ساتھ قلم کا چلنا مشکل ہو جاتا تھا۔ان ہردو وجوہ سے مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی نور الدین صاحب کو جو خطبہ نویسی کے لئے مقرر تھے بعض دفعہ الفاظ پوچھنا پڑتے تھے۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ ۸۴۔تفصیل کے لئے دیکھئے روایات حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی سیرت المہدی جلد دوم تتمہ صفحہ ۳۶۵ تا ۳۷۱) اسی خطبہ سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب تعطیر الانام موجودہ خلافت لائبریری ربوہ کے ورق پر اپنے قلم مبارک سے دو خوابیں تحریر فرمائی ہیں۔۱۹؍ اپریل ۱۹۰۰ء کی تاریخ دے کر حضور نے