خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 188

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۸۸ خطبه الهاميه في الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ ۔ إِنَّ الَّذِينَ نزد من شفاعت میار که ظلم را عادت مستمره خود گرفته اند چرا که اوشاں پیش زانکه غرق شوند غرق اند پیش نہ کر جنہوں نے تمام زندگی کے لئے ظلم کرنا اپنا اصول بنا لیا ہے کیونکہ وہ تو فرق ہونے سے پہلے ہی يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللهِ فَوقَ یعنی در معاصی آنان که دست در دست تو می دهند اوشال دست در دست خدا مے دہند۔ دست خدا گناہوں میں غرق ہیں اور جولوگ تیرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں۔ خدا أيديهم"، وقد أشعتُ هذا الوحي من سنين، بالائے دست اوشاں است سالها می گذرد که اشاعت ایس وحی کرده ام کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔ برسوں ہوئے کہ اس وحی کی میں نے اشاعت کی ہے ويعلمه المحبّون والمعادون ۔ والله يأتى الأرض و دشمن بر این آگاه است۔ و خدا روز بروز زمین را چنانچہ دوست جیسا کہ دوست اور دشمن سب اسے جانتے ہیں اور خدا دن بدن زمین کو اس کی طرفوں ۔ ينقصها من أطرافها، فتوبوا إلى الله أيهـا از اطرافش کم ہے کند بایں معنی کہ فوج فوج مردم از ہر سو مے آیند ۔ پس اے غافلاں بسوئے خدا اس طرح پر کم کرتا چلا جاتا ہے کہ فوج در فوج لوگ ہر طرف سے آرہے ہیں۔ پس اے غافلو! خدا کی طرف الغافلون۔ ولا تفرّطوا في حقوق الله وعباده، رجوع بکنید در حق و بندگان خدا وے ستمگری و رجوع کرو اور خدا کے اور اس کے بندوں کے حق میں ظلم و بیداد اور ستم ولا تكونوا من الذين يظلمون، وتوبوا مورزید نہ توبه نصوح کرو۔ اور توبه نصوح