خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 176

روحانی خزائن جلد ۱۶ 127 خطبه الهاميه رحمته، لكن المخالفين لا يبصرون، بل يرونني فرو نے گزارد و لیکن مخالفان نے بینند بلکه مرا می بینند نہیں چھوڑتی لیکن مخالف نہیں دیکھتے بلکہ مجھ کو دیکھتے ہیں ويعبسون ويسبون ويشتمون، ويحلفون حلفا اور دهند و سوگند بر سوگند سر که بر ابرو می مالند و دشنام می چیں بہ جبیں ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور قسم پر قسم على حلف إنه كاذب ولا يبقى سر إلا يُبدى، ولا می خورند که من کاذب هستم و بیچ رازے نماند که ظاهر نه شود و کھاتے ہیں کہ میں جھوٹا ہوں اور ایسا کوئی بھید نہیں رہا جو ظاہر نہ ہو اور إلا تُقضى، فسيظهر ما في قلبي وما في و قضية بیچ قضیہ کہ فیصلہ نہ شود۔ قریب است که آنچه در دل من است و آنچه اوشاں نہ کوئی قضیہ جو فیصلہ نہ ہو۔ قریب ہے کہ جو کچھ میرے دل میں ہے اور جو کچھ ان کے قلبهم، ولا يُكتَم ما يكتمون ۔ هذان حزبان من ور دل دارند آشکار بشود ایس دو گروه از دل میں ہے ظاہر ہو جائے۔ رو گروه المغضوب عليهم وأهل الصلبان ذكرهما الله , اہل هستند خدا اور اہل صلیب میں ہیں کہ خدا نے في الفاتحة، وأشار إلى أنهما يكثران في در فاتحہ ذکر ایشان فرموده اشارت کرده که در آخر زمان اوشان را فاتحہ میں ان کا ذکر کیا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ آخر زمانہ میں