خطبة اِلہامِیّة — Page xix
س نحمدہ و نصلی علی رسولہٖ الکریم تعارف (از حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) روحانی خزائن کی یہ سولہویں جلد ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی دو عربی تصنیفات خطبہ الہامیہ اور لجّۃ النّور پر مشتمل ہے۔خطبہ الہامیہ عید الاضحی جو ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۰ء مطابق ۱۰؍ ذوالحج ۱۳۱۷ھ کو ہوئی۔اس روز عید کی نماز ادا کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے نہایت فصیح و بلیغ عربی زبان میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا جو خطبہ الہامیہ کے نام سے مشہور ہے اور وہ اس کتاب کا وہ حصہ ہے جو یَاعِبَادَ اﷲِ فَکِّرُوْاسے شروع ہوتا ہے اور وَسَوْفَ یُنَبِّءُہُمْ خَبِیْرٌ پر ختم ہوتا ہے۔یہ خطبہ طبع بار اول کے صفحہ ۱ سے لے کر صفحہ ۳۸ پر اور اس طبع کے صفحہ ۳۱ سے لے کر صفحہ ۷۳ پر ختم ہوتا ہے اس کے بعد ’’الباب الثانی‘‘ شروع ہوتا ہے۔اصل خطبہ میں جس کی وجہ سے ساری کتاب کا نام ’’خطبہ الہامیہ‘‘ رکھا گیاقربانی کی حکمت اور اس کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے اور باقی چار ابواب میں جو آپ نے بعد میں رقم فرمائے اپنے دعویٰ پر روشنی ڈالی ہے اور قرآن مجید و احادیث سے اپنے دعویٰ کی صداقت اور تائید میں دلائل دیئے ہیں۔اس میں ایک اشتہار چندہ منارۃ المسیح بزبان اُردو بطور ضمیمہ خطبہ الہامیہ شائع کیا گیا ہے جس میں حضرت اقدس نے منارۃ المسیح کے اغراض و مقاصد کا ذکر فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے معراج کی دو قسمیں معراج مکانی اور معراج زمانی ذکر فرما کر معراج زمانی کے لحاظ سے ’’مسیح موعود‘‘ کی مسجد کو مسجد اقصٰی قرار دیا ہے اور اس اشتہار کے آخر میں آپ نے ۲۸؍ مئی ۱۹۰۰ء تاریخ تحریر فرمائی ہے۔