خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 110

روحانی خزائن جلد ۱۶ 11+ خطبه الهاميه وقد اشير اليه في الفاتحة مرةً اخرى - وتقرء ون و در سورہ فاتحہ بار دوم سوئے ایں وعدہ اشارت کرده شده و ایں سورہ فاتحہ اور سورہ فاتحہ میں دوسری بار اس وعدہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور یہ آیت سورہ فاتحہ فى الصلوة صراط الذين انعمت عليهم ثم تستقرون یعنی صراط الذین انعمت عليهم در نماز ہائے خود می خوانید بازحیلہ جوئی را یعنی صراط الذین انعمت علیھم اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں ۔ پھر حیلہ و بہانہ سبل الانكار وتسرون النجوى - مـالـكـم تدوسون اختیار مے کنید و برائے رفع دفع حجت الہی مشورہ ہام کنید - چه شد شما را که شمارا که اختیار کرتے ہیں اور حجت الہی کے رفع دفع کیلئے مشورے کرتے ہیں تمہیں کیا ہو گیا کہ قول الله تحت الاقدام الا تموتون اوتتركون قول خدا تعالی را زیر قدمہائے خود پامال سے کنید آیا نخواهید مرد یا چه کس شمارا نخواهد پرسید خدا تعالیٰ کے فرمودہ کو اپنے پیروں میں روندتے ہو۔ کیا ایک دن تم نہیں مرو گے یا کوئی تم کو نہیں پوچھے گا سدی - وتذكرونني كما يُذْكَرُ الكفار وتقولون ہمچو ذکر کا فراں مے کنید و می گوئید کہ اور میرا ذکر کافروں کے ذکر کی طرح کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ و ذکر من اقتلوه ان استطعتم وتـكتبـون الـفـتـوى ومـا اگر توانیداو را قتل کنید و ہم چنیں فتوی می نویسید و اور اگر ہو سکے تو قتل کر دیا جائے اور اسی طرح فتوے لکھتے ہیں كان لنفس ان تموت الا باذن الله وان معى بھی نے میر نگر ہا پیچ نفس نے میرد مگر باذن الہی کوئی نفس و با من بجز اذن الہی نہیں مرتا اور میرے ساتھ تو