خطبة اِلہامِیّة — Page 101
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۰۱ خطبه الهاميه هذا الحديث يقص عليكم ما بين لكم الفرقان ہماں بیان می کند که قرآن شریف بیان فرموده است حدیث وہی بیان کرتی ہے جو قرآن شریف نے فرمایا ہے۔ فلا تفرقوا بين كتاب الله وقول رسوله المجتبى پس در کتاب خدا و قول رسول خدا تفرقه نیندازید پس کتاب اللہ اور قول رسول اللہ میں تفرقہ نہ ڈالو۔ واتقوا الله الذي ترجع اليه كل نفس فتجزى و ازاں خدا بترسید کہ سوئے او واپس خواهید شد و پاداش اعمال خود خواهید یافت اور اس خدا سے ڈرو کہ اس کی طرف ایک دن جانا ہے اور اپنے اعمال کی جزا پانی ہے ۔ الاتعلمون ماقال ربكم اعنى قوله وَعَدَ اللهُ ﴿٥٨﴾ آیا نمی دانید که خداوند ما چه گفته است یعنی این قول خدا تعالیٰ که وعد الله الذين کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارے خدا نے کیا فرمایا یعنی یہ کہ وعد الله الذین امنوا منكم تا اس کے قول الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ الى قوله لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا أمنوا منكم تاقول اولا یشرکون بی شیئا است - آیا دریں قول غور نمی کنید کہ صاف ہدایت می فرماید کہ ہمہ خلیفہ ہا از لا يشركون بى شيئًا تک۔ کیا اس فرمودہ میں تم غور نہیں کرتے کہ صاف صاف ہدایت فرماتا ہے کہ تمام خلیفے اسی فمالكم تشركون بالله عيسى والدجال من ہمیں امت خواهند بود نہ کہ کسے از آسمان نازل شود۔ چه شد شما را که حضرت عیسی و دجال را شریک خدا تعالی امت میں سے ہونگے نہ کوئی ایک آسمان سے نازل ہوگا۔ تمہیں کیا ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ اور دجال کو خدا کا شریک غير علم مـن اللــه ولا الهدى وتـنـتـظـرون می گردانید و براں بیچ دلیلے نمے دارید و انتظار می کنید که ٹھہراتے ہو کیا اس پر کوئی دلیل رکھتے بلکہ ناحق انتظار کرتے ہو کہ النور : ۵۶