خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 86

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۸۶ خطبه الهاميه هذا وعد الله وان وعد الله لا يبدل ولا ينسى ایں وعدہ خدا تعالی بود و وعده خدا تعالیٰ نہ قابل تبدیل و نه لائق نسیان است یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا اور یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ نہ قابل تبدیل اور نہ لائق سہو ہے ۔ بقية الحاشية خارج من العادة ولا هو حرى بالتسليم ۔ فان الانسان قد خارج از عادت است و نه لائق است که قبول کرده شود چرا کہ انسان گا ہے خارج از عادت ہے اور نہ لائق ہے کہ اس بات کو قبول کیا جائے کس لئے کہ انسان کبھی يتولد من نطفة الامرأة وحدها ولو على سبيل الندرة ـ وليس وایس امر پیدا میگردد از نطفه زن فقط اگر چه به سبیل نادر باشد عورت کے نطفہ سے بھی پیدا ہو جاتا ہے اگر چہ بات نادر ہو اور یہ امر هو بخارج من قانون القدرة - بل له نظائر وقصص في كل قوم خارج از قانون قدرت نیست بلکه در هر قوم نظیر ہائے ایس یافته می شوند قانون قدرت سے بھی خارج نہیں ہے بلکہ ہر قوم میں اس کی نظیر میں پائی جاتی ہیں وقد ذكرها الاطباء من اهل التجربة ۔ نعم نقبل ان و طویان اہل تجر به ذکر آن نظیر با کرده اند این امر قبول می کنیم کہ اور اہل تجر بہ طبیبوں نے ایسی نظیروں کا ذکر کیا ہے ۔ ہاں ہم یہ بات قبول کر سکتے ہیں کہ الحاشية على الحاشية : - الم تر انّ ادم عليه السلام ماكان له آیا ندیدی که آدم علیه السلام را نه پدری بود و نه آیا تم نے نہیں دیکھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا نہ کوئی باپ ابوان فكون هذا الامر من عادة الله ثابت من ابتداء الزمان۔ منه ما درے۔ پس داخل عادت بودن این امر از ابتدائے زمانه ثابت است - منه تھا اور نہ ماں۔ پس یہ امر عادت اللہ میں داخل ہونا ابتداء زمانہ سے ہی ثابت ہے۔ منہ