خطبة اِلہامِیّة — Page 86
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۸۶ خطبه الهاميه هذا وعد الله وان وعد الله لا يبدل ولا ينسى ۔ و این وعده خدا تعالی بود وعدہ خدا تعالیٰ نہ قابل تبدیل و نہ لائق نسیان است ۔ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا اور یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ نہ قابل تبدیل اور نہ لائق سہو ہے۔ بقية الحاشية خارج مــن الـعـادة ولا هو حرى بالتسليم فان الانسان قد خارج از عادت است و نه لائق است که قبول کرده شود چرا که انسان گا ہے خارج از عادت ہے اور نہ لائق ہے کہ اس بات کو قبول کیا جائے کس لئے کہ انسان کبھی يتولد من نطفة الامرأة وحدها ولو على سبيل الندرة - وليس پیدا میگردد از نطفه زن فقط اگر چه به سبیل نادر باشد عورت کے نطفہ سے بھی پیدا ہو جاتا ہے وایس امر اگر چہ بات نادر ہو اور یہ امر هو بخارج من قانون القدرة ـ بـل لـه نظائر وقصص في كل قوم خارج از قانون قدرت نیست بلکه در هر قوم نظیر ہائے ایس یافته می شوند قانون قدرت سے بھی خارج نہیں ہے بلکہ ہر قوم میں اس کی نظیریں پائی جاتی ہیں وقد ذكرها الاطباء من اهل التجربة ۔ نعم نقبل ان و طبیبان اہل تجربہ ذکر آن نظیر با کرده اند این امر قبول می کنیم کہ اور اہل تجربہ طبیبوں نے ایسی نظیروں کا ذکر کیا ہے ۔ ہاں ہم یہ بات قبول کر سکتے ہیں کہ الحاشية على الحاشية : - الم تر ان ادم عليه السلام ما كان له آیا ندیدی که آدم علیہ السلام را نه پدری بود و نه آیا تم نے نہیں دیکھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا نہ کوئی باپ ابوان فكون هذا الامر من عادة الله ثابت من ابتداء الزمان۔ منه مادرے۔ پس داخل عادت بودن این امر از ابتدائے زمانہ ثابت است - منه تھا اور نہ ماں ۔ پس یہ امر عادت اللہ میں داخل ہونا ابتداء زمانہ سے ہی ثابت ہے۔ منــه