کشتیءنوح — Page 39
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹ کشتی نوح اس کی خوبیوں کے لئے کوئی ایسی حالت منتظرہ باقی نہیں جو آج نہیں مگر کل حاصل ہوگی اور اس کی بادشاہت کے لوازم میں سے کوئی چیز بے کا رنہیں تمام عالموں کی پرورش کر رہا ہے بغیر عوض اعمال کے رحمت کرتا ہے اور نیز بعوض اعمال رحمت کرتا ہے جزا سزا وقت مقرر پر دیتا ہے اُسی کی ہم عبادت کرتے ہیں اور اُسی سے ہم مدد چاہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ہمیں تمام نعمتوں کی راہیں دکھلا اور غضب کی راہوں اور ضلالت کی راہوں سے دور رکھ۔ یہ دعاجو سورۃ فاتحہ میں ہے انجیل کی دعا سے بالکل نقیض ہے کیونکہ انجیل میں زمین پر خدا کی موجودہ بادشاہت ہونے سے انکار کیا گیا ہے پس انجیل کے رو سے نہ زمین پر خدا کی ربوبیت کچھ کام کر رہی ہے نہ رحمانیت نہ رحیمیت نہ قدرت جزا سزا کیونکہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں آئی مگر سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت موجود ہے اسی لئے سورۃ فاتحہ میں تمام لوازم بادشاہت کے بیان کئے گئے ہیں ظاہر ہے کہ بادشاہ میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ لوگوں کی پرورش پر قدرت رکھتا ہو سو سورۃ فاتحہ میں رب العالمین کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا گیا ہے۔ پھر دوسری صفت بادشاہ کی یہ چاہیے کہ جو کچھ اس کی رعایا کو اپنی آبادی کے لئے ضروری سامان کی حاجت ہے وہ بغیر عوض ان کی خدمات کے خود رحم خسروانہ سے بجالا وےسو الرحمن کےلفظ سے اس صفت کو ثابت کر دیا ہے۔ تیسری صفت بادشاہ میں یہ چاہیے کہ جن کاموں کو اپنی کوشش سے رعایا انجام تک نہ پہنچا سکے ان کے انجام کے لئے مناسب طور پر مدد دے۔ سو الرحیم کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا ہے چوتھی صفت بادشاہ میں یہ چاہیے کہ جزا و سزا پر قادر ہو تا سیاست مدنی کے کام میں خلل نہ پڑے سو مالک یوم الدین کے لفظ سے اس صفت کو ظاہر کر دیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ سورۃ موصوفہ بالا نے تمام وہ لوازم بادشاہت پیش کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت اور بادشاہی تصرفات موجود ہیں چنانچہ اُس کی ربوبیت بھی موجود اور رحمانیت بھی موجود اور رحیمیت بھی موجود اور سلسلہ امداد بھی موجود اور سلسلہ سزا بھی موجود غرض جو کچھ بادشاہت کے لوازم میں سے ہوتا ہے زمین پر سب کچھ خدا کا موجود ہے اور ایک ذرہ بھی اُس کے حکم سے باہر نہیں