کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 566

کشتیءنوح — Page 35

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۵ کشتی نوح بھی ہوتی ہیں خون بھی ہوتے ہیں زنا کار اور خائن اور مرتشی وغیرہ ہر یک قسم کے جرائم پیشہ بھی پائے جاتے ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس ملک میں سرکار انگریزی کا راج نہیں کیونکہ راج تو ہے مگر گورنمنٹ نے عمداً ایسے سخت قانون کو مناسب نہیں سمجھا جس کی دہشت سے لوگوں پر زندگی مشکل ہو جائے ورنہ اگر گورنمنٹ تمام جرائم پیشہ کو ایک تکلیف دہ زندان میں رکھ کر ان کو جرائم سے روکنا چاہے تو بہت آسانی سے وہ رُک سکتے ہیں یا اگر قانون میں سخت سزائیں رکھی جائیں تو ان جرائم کا انسداد ہو سکتا ہے پس تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر اس ملک میں شراب پی جاتی ہے فاحشہ عورتیں بڑھتی جاتی ہیں چوری اور خون کی وارداتیں ہوتی ہیں یہ اس لئے نہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہاں راج نہیں بلکہ گورنمنٹ کے قانون کی نرمی نے جرائم میں کثرت پیدا کر دی ہے نہ یہ کہ گورنمنٹ انگریزی اس جگہ سے اُٹھ گئی ہے بلکہ سلطنت کا اختیار ہے کہ قانون کو سخت کر کے اور سنگین سزائیں مقرر کر کے ارتکاب جرائم سے روک دے جبکہ انسانی سلطنت کا یہ حال ہے کہ جو الہی سلطنت کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہیں تو الہی سلطنت کس قدر اقتدار اور اختیار رکھتی ہے اگر خدا کا قانون ابھی سخت ہو جائے اور ہر ایک زنا کرنے والے پر بجلی پڑے اور ہر یک چور کو یہ بیماری پیدا ہو کہ ہاتھ گل سٹر کر گر جائیں اور ہر یک سرکش خدا کا منکر اس کے دین کا منکر طاعون سے مرے تو ایک ہفتہ گذرنے سے پہلے ہی تمام دنیا راستبازی اور نیک بختی کی چادر پہن سکتی ہے۔ پس خدا کی زمین پر بادشاہت تو ہے لیکن آسمانی قانون کی نرمی نے اس قدر آزادی دے رکھی ہے کہ جرائم پیشہ جلدی نہیں پکڑے جاتے ہاں سزائیں بھی ملتی رہتی ہیں۔ زلزلے آتے ہیں۔ بجلیاں پڑتی ہیں۔ کوہ آتش فشاں آتش بازی (۳۳) کی طرح مشتعل ہو کر ہزاروں جانوں کا نقصان کرتے جاتے ہیں جہاز غرق ہوتے ہیں ریل گاڑیوں کے ذریعہ سے صدہا جانیں تلف ہوتی ہیں۔ طوفان آتے ہیں مکانات گرتے ہیں سانپ کاٹتے ہیں درندے پھاڑتے ہیں وبائیں پڑتی ہیں اور فنا کرنے کا نہ ایک دروازہ بلکہ ہزار ہا