کشتیءنوح — Page 33
روحانی خزائن جلد ۱۹ ٣٣ کشتی نوح پہاڑوں اور زمین کا ذرہ ذرہ اور دریاؤں اور سمندروں کا قطرہ قطرہ اور درختوں اور بوٹیوں کا پات پات اور ہر ایک جز اُن کا اور انسان اور حیوانات کے کل ذرات خدا کو پہچانتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی تحمید و تقدیس میں مشغول ہیں اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا سبح لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ، یعنی جیسے آسمان پر ہر یک چیز خدا کی تسبیح و تقدیس کر رہی ہے ویسے زمین پر بھی ہر ایک چیز اُس کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے۔ پس کیا زمین پر خدا کی تحمید و تقدیس نہیں ہوتی ایسا کلمہ ایک کامل عارف کے منہ سے نہیں نکل سکتا بلکہ زمین کی چیزوں میں سے کوئی چیز تو شریعت کے احکام کی اطاعت کر رہی ہے اور کوئی چیز قضا و قدر کے احکام کے تابع ہے اور کوئی دونوں کی اطاعت میں کمر بستہ ہے کیا بادل کیا ہوا کیا آگ کیا زمین سب خدا کی اطاعت اور تقدیس میں محو ہیں اگر کوئی انسان الہی شریعت کے احکام کا سرکش ہے تو الہی قضا و قدر کے حکم کا تابع ہے۔ ان دونوں حکومتوں سے باہر کوئی نہیں کسی نہ کسی آسمانی حکومت کا جوا ہر ایک کی گردن پر ہے۔ ہاں البتہ انسانی دلوں کی صلاح اور فساد کے لحاظ سے غفلت اور ذکر الہی نوبت به نوبت زمین پر اپنا غلبہ کرتے ہیں مگر بغیر خدا کی حکمت اور مصلحت کے یہ مد و جزر خود بخود نہیں خدا نے چاہا کہ زمین میں ایسا ہو سو ہو گیا سو ہدایت اور ضلالت کا دور بھی دن رات کے دور کی طرح خدا کے قانون اور اذان کے موافق چل رہا ہے نہ خود بخود باوجود اس کے ہر ایک چیز اس کی آواز سنتی ہے اور اس کی پا کی یاد کرتی ہے مگر انجیل کہتی ہے کہ زمین خدا کی تقدیس سے خالی ہے؟ اس کا سبب اس انجیلی دعا کے اگلے فقرہ میں (۳۱) بطور اشارہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ابھی اُس میں خدا کی بادشاہت نہیں آئی اس لئے حکومت نہ ہونے کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے خدا کی مرضی ایسے طور سے زمین پر نافذ نہیں ہو سکی جیسا کہ آسمان پر نافذ ہے مگر قرآن کی تعلیم سراسر اس کے بر خلاف ہے وہ تو صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ کوئی چور، خونی ، زانی ، کافر ، فاسق، سرکش، جرائم پیشہ کسی قسم کی بدی زمین پر نہیں کر سکتا جب تک کہ آسمان پر سے اُس کو اختیار نہ دیا جائے۔ پس کیونکر کہا جائے کہ آسمانی بادشاہت زمین پر نہیں کیا کوئی مخالف الجمعة : ٢