کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 566

کشتیءنوح — Page 24

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۴ کشتی نوح جاتے ہیں اور دین کے رو سے وہ نرا مفلس اور ننگا ہوتا ہے اور آخر دنیا کے خیالات میں ہی مرتا اور ۲۲ ابدی جہنم میں ڈالا جاتا ہے اور کبھی اس رنگ میں بھی امتحان ہوتا ہے کہ دنیا سے بھی نامراد رکھا جاتا ہے مگر مؤخر الذکر امتحان ایسا خطر ناک نہیں جیسا کہ پہلا کیونکہ پہلے امتحان والا زیادہ مغرور ہوتا ہے بہر حال یہ دونوں فریق مغضوب علیھم ہیں۔ کچی خوش حالی کا سر چشمہ خدا ہے پس جبکہ اس حتى وقيوم خدا سے یہ لوگ بے خبر ہیں بلکہ لا پروا ہیں اور اس سے منہ پھیر رہے ہیں تو سچی خوشحالی اُن کو کہاں نصیب ہو سکتی ہے مبار کی ہو اس انسان کو جو اس راز کو سمجھ لے اور ہلاک ہو گیا وہ شخص جس نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ اسی طرح تمہیں چاہیے کہ اس دنیا کے فلسفیوں کی پیروی مت کرو اور ان کو عزت کی نگہ سے مت دیکھو کہ یہ سب نادانیاں ہیں۔ سچا فلسفہ وہ ہے جو خدا نے تمہیں اپنی کلام میں سکھلایا ہے۔ ہلاک ہو گئے وہ لوگ جو اس دنیوی فلسفہ کے عاشق ہیں اور کامیاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے بچے علم اور فلسفہ کو خدا کی کتاب میں ڈھونڈا ۔ نادانی کی راہیں کیوں اختیار کرتے ہو کیا تم خدا کو وہ باتیں سکھلاؤ گے جو اُسے معلوم نہیں ۔ کیا تم اندھوں کے پیچھے دوڑتے ہو کہ وہ تمہیں راہ دکھلا دیں ۔ اے نادانو ! وہ جو خود اندھا ہے وہ تمہیں کیا راہ دکھائے گا بلکہ سچا فلسفہ روح القدس سے حاصل ہوتا ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ تم روح کے وسیلہ سے ان پاک علوم تک پہنچائے جاؤ گے جن تک غیروں کی رسائی نہیں اگر صدق سے مانگو تو آخر تم اسے پاؤ گے تب سمجھو گے کہ یہی علم ہے جو دل کو تازگی اور زندگی بخشتا ہے اور یقین کے مینار تک پہنچا دیتا ہے۔ وہ جو خود مردار خوار ہے وہ کہاں سے تمہارے لئے پاک غذ الائے گا۔ وہ جو خود اندھا ہے وہ کیونکر تمہیں دکھاوے گا۔ ہر ایک پاک حکمت آسمان سے آتی ہے پس تم زمینی لوگوں سے کیا ڈھونڈتے ہو جن کی روحیں آسمان کی طرف جاتی ہیں وہی حکمت کے وارث ہیں جن کو خود تسلی نہیں وہ کیونکر تمہیں تسلی دے سکتے ہیں مگر پہلے دلی پاکیزگی ضروری ہے پہلے صدق و صفا ضروری ہے پھر بعد اس کے یہ سب کچھ تمہیں ملے گا۔ یہ خیال مت کرو کہ خدا کی وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور قرآن شریف پر شریعت ختم ہو گئی مگر وحی ختم نہیں ہوئی کیونکہ وہ بچے دین کی جان ہے جس دین میں وحی الہی کا سلسلہ جاری نہیں وہ دین مردہ ہے اور خدا اُس کے ساتھ نہیں۔ منہ