کشتیءنوح — Page 25
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۵ کشتی نوح روح القدس اب اتر نہیں سکتا بلکہ پہلے زمانوں میں ہی اتر چکا۔ اور میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں که هر یک دروازہ بند ہو جاتا ہے مگر روح القدس کے اترنے کا کبھی دروازہ بند نہیں ہوتا تم اپنے دلوں کے دروازے کھول دو تا وہ ان میں داخل ہو تم اُس آفتاب سے خود اپنے تئیں دور ڈالتے ہو جبکہ اُس شعاع کے داخل ہونے کی کھڑکی کو بند کرتے ہو ۔ اے نادان اٹھے اور اس کھڑ کی کو کھول دے تب آفتاب خود بخود تیرے اندر داخل ہو جائے گا جبکہ خدا نے دنیا کے فیضوں کی راہیں ﴿۲۳﴾ اس زمانہ میں تم پر بند نہیں کیں بلکہ زیادہ کیں تو کیا تمہارا ظن ہے کہ آسمان کے فیوض کی راہیں جن کی اس وقت تمہیں بہت ضرورت تھی وہ تم پر اس نے بند کر دی ہیں ہرگز نہیں بلکہ بہت صفائی سے وہ دروازہ کھولا گیا ہے۔ اب جب کہ خدا نے اپنی تعلیم کے موافق جو سورہ فاتحہ میں سکھلائی گئی گذشتہ تمام نعمتوں کا تم پر دروازہ کھول دیا ہے تو تم کیوں ان کے لینے سے انکار کرتے ہو اس چشمہ کے پیاسے بنو کہ پانی خود بخود آ جائے گا اس دودھ کے لئے تم بچہ کی طرح رونا شروع کرو کہ دودھ پستان سے خود بخود اتر آئے گا۔ رحم کے لایق ہوتا تم پر رحم کیا جائے اضطراب دکھلاؤ تا تسلی پاؤ بار بار چلا ؤ تا ایک ہاتھ تمہیں پکڑ لے کیا ہی دشوار گزاروہ راہ ہے جو خدا کی راہ ہے۔ پران کے لئے آسان کی جاتی ہے جو مرنے کی نیت سے اس اتھاہ گڑھے میں پڑتے ہیں وہ اپنے دلوں میں فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہمیں آگ منظور ہے ہم اس میں اپنے محبوب کے لئے جلیں گے پھر وہ آگ میں اپنے تئیں ڈال دیتے ہیں پس کیا دیکھتے ہیں کہ وہ بہشت ہے، یہی ہے جو خدا نے فرمایا وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا الخ یعنی اے بُر و اور اسے نیکو تم میں سے کوئی بھی نہیں جو جہنم کی آگ پر گذر نہ کرے مگر وہ جو خدا کے لئے اُس آگ میں پڑتے ہیں وہ نجات دئے جائیں گے لیکن وہ جو اپنے نفس امارہ کے لئے آگ پر چلتا ہے وہ آگ اُسے کھا جائے گی۔ پس مبارک وہ جو خدا کے لئے اپنے نفس سے جنگ کرتے ہیں اور بد بخت وہ جو اپنے نفس کے لئے خدا سے جنگ کر رہے ہیں اور اس سے موافقت نہیں کرتے جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہرگز داخل نہیں ہوگا سو تم کوشش کرو جو ایک نقطہ یا مریم : ۷۲