کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 566

کشتیءنوح — Page 81

روحانی خزائن جلد ۱۹ ΔΙ کشتی نوح طلاق کے مسئلہ کی بابت صرف زنا کی شرط تھی اور دوسرے صد با طرح کے اسباب جو مرد اور عورت ۷۲ میں جانی دشمنی پیدا کر دیتے ہیں اُن کا کچھ ذکر نہ تھا اس لئے عیسائی قوم اس خامی کی برداشت نہ کرسکی اور آخر امریکہ میں ایک طلاق کا قانون پاس کرنا پڑا سواب سوچو کہ اس قانون سے انجیل کدھر گئی اور اسے عور تو فکر نہ کر وجو تمہیں کتاب ملی ہے وہ انجیل کی طرح انسانی تصرف کی محتاج نہیں اور اس کتاب میں جیسے مردوں کے حقوق محفوظ ہیں عورتوں کے حقوق بھی محفوظ ہیں اگر عورت مرد کے تعدد ازواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم ضلع کرا سکتی ہے۔ خدا کا یہ فرض تھا کہ مختلف صورتیں جو مسلمانوں میں پیش آنے والی تھیں اپنی شریعت میں ان کا ذکر کر دیتا تا شریعت ناقص نہ رہتی ہو تم اے عور تو اپنے خاوندوں کے ان ارادوں کے وقت کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں خدا تعالیٰ کی شکایت مت کرو بلکہ تم دعا کرو کہ خدا تمہیں مصیبت اور ابتلا سے محفوظ رکھے بیشک وہ مر دسخت ظالم اور قابل مواخذہ ہے جو دو جور وئیں کر کے انصاف نہیں کرتا مگر تم خود خدا کی نافرمانی کر کے مورد قمر الہی مت بنو ہر ایک اپنے کام سے پوچھا جائے گا۔ اگر تم خدا تعالی کی نظر میں نیک بنو تو تمہارا خاوند بھی نیک کیا جاوے گا اگر چہ شریعت نے مختلف مصالح کی وجہ سے تعدد ازواج کو جائز قرار دیا ہے لیکن قضا و قدر کا قانون تمہارے لئے کھلا ہے اگر شریعت کا قانون تمہارے لئے قابل برداشت نہیں تو بذریعہ دعا قضا و قدر کے قانون سے فائدہ اُٹھاؤ کیونکہ قضا وقدر کا قانون شریعت کے قانون پر بھی غالب آجاتا ہے تقویٰ اختیار کرو دنیا سے اور اُس کی زینت سے بہت دل مت لگاؤ۔ قومی فخر مت کرو کسی عورت سے ٹھٹھا نسی مت کرو خاوندوں سے وہ تقاضے نہ کرو جو ان کی حیثیت سے باہر ہیں کوشش کرو کہ تا تم معصوم اور پاک دامن ہونے کی حالت میں قبروں میں داخل ہو خدا کے فرائض نماز زکوۃ وغیرہ میں سنتی مت کرو اپنے خاوندوں کی دل و جان سے مطیع رہو بہت سا حصہ ان کی عزت کا تمہارے ہاتھ میں ہے سو تم اپنی اس ذمہ داری کو ایسی عمدگی سے ادا کرو کہ خدا کے نزدیک صالحات قانتات میں گئی جاؤ۔ اسراف نہ کرو اور خاوندوں کے مالوں کو بیجا طور پر خرچ نہ کرو، خیانت نہ کرو، چوری نہ کرو، گلہ نہ کرو، ایک عورت دوسری عورت یا مرد پر بہتان نہ لگا ہے۔