کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 566

کشتیءنوح — Page 82

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۸۲ کشتی نوح خاتمہ یہ تمام نصائح جو ہم لکھ چکے ہیں اس غرض سے ہیں کہ تا ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے خوف میں ترقی کرے اور تا وہ اس لائق ہو جاویں کہ خدا کا غضب جو زمین پر بھڑک رہا ہے وہ ان تک نہ پہنچے اور تا ان طاعون کے دنوں میں وہ خاص طور پر بچائے جائیں سچی تقوی (آہ بہت ہی کم ہے کچی تقوی) خدا کو راضی کر دیتی ہے اور خدا نہ معمولی طور پر بلکہ نشان کے طور پر کامل متقی کو بلا سے بچاتاہے ہر یک مکار یا نادان متقی ہونے کا دعوی کرتا ہے عمرمتی وہ ہے جو خدا کے نشان سے متقی ثابت ہو۔ ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ میں خدا سے پیار کرتا ہوں مگر خدا سے پیار وہ کرتا ہے جس کا پیار آسمانی گواہی سے ثابت ہو۔ اور ہر ایک کہتا ہے کہ میرا مذ ہب سچا ہے مگر سچاند ہب اس شخص کا ہے جس کو اسی دنیا میں نور ملتا ہے۔ اور ہر ایک کہتا ہے کہ مجھے نجات ملے گی مگر اس قول میں سچا وہ شخص ہے جو اسی دنیا میں نجات کے انوار دیکھتا ہے۔ سو تم کوشش کرو کہ خدا کے پیارے ہو جاؤ تا تم ہر ایک آفت سے بچائے جاؤ۔ کامل متقی طاعون سے بچایا جائے گا کیونکہ وہ خدا کی پناہ میں ہے سو تم کامل منتقی بنو۔ جو کچھ خدا نے طاعون کے بارے میں فرمایا تم سن چکے ہو وہ ایک غضب کی آگ ہے پس تم اپنے تئیں اس آگ سے بچاؤ۔ جوشخص بچے طور پر میری پیروی کرتا ہے اور کوئی خیانت اُس کے اندر نہیں اور نہ کسل اور نہ غفلت ہے اور نہ نیکی کے ساتھ بدی کو جمع رکھتا ہے وہ بچایا جائے گا لیکن وہ جو اس راہ میں ست قدم سے چلتا ہے اور تقویٰ کے راہوں میں پورے طور پر