کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 566

کشتیءنوح — Page 77

روحانی خزائن جلد ۱۹ 22 حاشیه متعلق صفحہ ۶۹ کشتی نوح کر بیئر ڈلا سیرا جنوبی اٹلی کے سب سے مشہور اخبار نے مندرجہ ذیل عجیب خبر شائع کی ہے۔ ۱۳ جولائی ۱۸۷۹ء کو یروشلم میں ایک بوڑھا راہب مسمی کور مرا جوا اپنی زندگی میں ایک ولی مشہور تھا اس کے پیچھے اس کی کچھ جائیداد رہی اور گورنر نے اس کے رشتہ داروں کو تلاش کر کے ان کے حوالہ دولاکھ فرینک ( ایک لاکھ پونے انہیں ہزار روپیہ ) کئے جو مختلف ملکوں کے سکوں میں تھے اور اس غار میں سے ملے جہاں وہ راہب بہت عرصہ سے رہتا تھا۔ روپے کے ساتھ بعض کا غذات بھی ان رشتہ داروں کو ملے جن کو وہ پڑھ نہ سکتے تھے ۔ چند عبرانی زبان کے فاضلوں کو ان کا غذات کے دیکھنے کا موقعہ ملا تو ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی کہ یہ کاغذات بہت ہی پرانی عبرانی زبان میں تھے جب ان کو پڑھا گیا تو ان میں یہ عبارت تھی۔ پطرس ماہی گیر یسوع مریم کے بیٹے کا خادم اِس طرح پر لوگوں کو خدا تعالیٰ کے نام میں اور اس کی مرضی کے مطابق خطاب کرتا ہے اور یہ خط اس طرح ختم ہوتا ہے۔ میں پطرس ماہی گیر نے یسوع کے نام میں اور اپنی عمر کے نوے سال میں یہ محبت کے الفاظ اپنے آقا اور مولی یسوع مسیح مریم کے بیٹے کی موت کے تین عید فسح بعد ( یعنی تین سال بعد ) خداوند کے مقدس محبعد گھر کے نزدیک بولیر کے مکان میں لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان فاضلوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ نسخہ پطرس کے وقت کا چلا آتا ہے۔ لنڈن بائبل سوسائٹی کی بھی یہی رائے ہے اور ان کا اچھی طرح سے امتحان کرانے کے بعد بائبل سوسائٹی اب ان کے عوض چار لاکھ لیرا ( دولاکھ ساڑھے سینتیس ہزار روپیہ ) مالکوں کو دے کر کا غذات کو لینا چاہتی ہے۔ یسوع ابن مریم کی دعا ان دونو پر سلام ہو۔ اس نے کہا۔ ”اے میرے خدا میں اس قابل نہیں کہ اس چیز پر غالب آ سکوں جس کو میں برا سمجھتا ہوں نہ میں نے اس نیکی کو حاصل کیا ہے جس کی مجھے خواہش تھی مگر دوسرے لوگ اپنے اجر کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں اور میں نہیں لیکن میری بڑائی میرے کام میں ہے۔ مجھ سے زیادہ بری حالت میں کوئی شخص نہیں ہے ۔ اے خدا جو سب سے بلندتر ہے میرے گناہ معاف کر ۔ اے خدا ایسا نہ کر کہ میں اپنے دشمنوں کے لئے الزام کا سبب ہوں نہ مجھے اپنے دوستوں کی نظر میں حقیر ٹھہرا اور ایسا نہ ہو کہ میرا تقویٰ مجھے مصائب میں ڈالے ایسا نہ کر کہ یہی دنیا میری بڑی خوشی کی جگہ یا میرا بڑا مقصد ہو اور ایسے شخص کو مجھ پر مسلط نہ کر جو مجھ پر رحم نہ کرے اے خدا جو بڑے رحم والا ہے اپنے رحم کی خاطر ایسا ہی کر تو جو اُن سب پر رحم کرتا ہے جو تیرے رحم کے حاجت مند ہیں۔ لا یہ ایڈیشن اول کا صفحہ ۶۹ ہے۔ (ناشر)