کشتیءنوح — Page 76
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۷۶ کشتی نوح رکھتے ہو تو ہم ان دو فقروں پر اس تقریر کو ختم کرتے ہیں۔ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَفِرُوْنَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ اندرونی تفرقہ اور پھوٹ کے زمانہ میں تمہارا فرضی مسیح اور فرضی مہدی کس کس پر تلوار چلائے گا کیا سنیوں کے نزدیک شیعہ اس لائق نہیں کہ اُن پر تلوار اُٹھائی جائے اور شیعوں کے نزد یک سنی اس لائق نہیں کہ ان سب کو تلوار سے نیست و نابود کیا جاوے پس جب کہ تمہارے اندرونی فرقے ہی تمہارے عقیدہ کی رو سے مستوجب سزا ہیں تو تم کس کس سے جہاد کرو گے مگر یاد رکھو کہ خدا تلوار کا محتاج نہیں وہ اپنے دین کو آسمانی نشانوں کے ساتھ زمین پر پھیلائے گا اور کوئی اُس کو روک نہیں سکے گا اور یا درکھ کہ اب عیسی تو ہرگز نازل نہیں ہوگا کیونکہ جو اقر ار اس نے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے رو سے قیامت کے دن کرنا ہے اس میں صفائی سے اُس کا اعتراف پایا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا اور قیامت کو اس کا یہی عذر ہے کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھے خبر نہیں اور اگر وہ قیامت کے پہلے دنیا میں آتا تو کیا وہ یہی جواب دیتا کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں لہذا اس آیت میں اُس نے صاف اقرار کیا ہے کہ میں دوبارہ دنیا میں نہیں گیا اور اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آنے والا تھا اور برابر چالیس برس رہنے والا تب تو اُس نے خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولا کہ مجھے عیسائیوں کے حالات کی کچھ خبر نہیں اس کو تو کہنا چاہیے تھا کہ آمد ثانی کے وقت میں نے چالیس کروڑ کے قریب دنیا میں عیسائی پایا اور آن سب کو دیکھا اور مجھے ان کے بگڑنے کی خوب خبر ہے اور میں تو انعام کے لائق ہوں کہ تمام عیسائیوں کو مسلمان کیا اور صلیبوں کو تو ڑا یہ کیسا جھوٹ ہے کہ عیسی کہے گا کہ مجھے خبر نہیں غرض اس آیت میں نہایت صفائی سے میچ کا اقرار ہےکہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا اور یہی بچی ہے کہ مسیح فوت ہو چکا اور سرینگر محلہ خانیار میں اُس کی قبر ہے ۔ اب خدا خود نازل ہوگا اور ان لوگوں سے آپ لڑے گا جو سچائی سے لڑتے ہیں۔ خدا کا لڑ نا قابل اعتراض نہیں کیونکہ وہ نشانوں کے رنگ میں ہے لیکن انسان کا لڑ نا قابل اعتراض ہے کیونکہ وہ جبر کے رنگ میں ہے۔ ایک یہودی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ قبر واقعہ سری نگر یہودیوں کے انبیاء کی قبروں کی طرح بنی ہوئی ہے۔ دیکھو پر چہ علیحدہ حاشیہ۔ ما منه الكافرون :٣٢ المائدة : ١١٨