کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 566

کشتیءنوح — Page 75

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۷۵ کشتی نوح بھی منسوخ نہیں ہوئیں اور اس قدر انقلاب سے پھر بھی ختم نبوت میں حرج نہیں آئے گا۔ اس زمانہ میں جو تیرہ سو برس عہد نبوت کو گزر گئے اور خود اسلام اندرونی طور پر تہتر فرقوں پر پھیل گیا۔ چے مسیح کا یہ کام ہونا چاہیے کہ وہ دلائل کے ساتھ دلوں پر فتح پادے نہ تلوار کے ساتھ اور صلیبی عقیدہ کو واقعی اور بچے ثبوت کے ساتھ توڑ دے نہ یہ کہ اُن صلیبوں کو توڑتا پھرے جو چاندی یا سونے یا پیتیل یا لکڑی سے بنائی جاتی ہیں اگر تم جبر کرو گے تو تمہارا جبر اس بات پر کافی دلیل ہے کہ تمہارے پاس اپنی سچائی پر کوئی دلیل نہیں ہر یک نادان اور ظالم طبع جب دلیل سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر تلوار یا بندوق کی طرف ہاتھ لمبا کرتا ہے مگر ایسا مذہب ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتا جو صرف تلوار کے سہارے سے پھیل سکتا ہے نہ کسی اور طریق سے اگر (۶۹) تم ایسے جہاد سے باز نہیں آ سکتے اور اس پر غصہ میں آکر راستبازوں کا نام بھی دجال اور ملحد بعض نادان مجھ پر اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ صاحب المنار نے بھی کیا کہ یہ شخص انگریزوں کے ملک میں رہتا ہے اس لئے جہاد کی ممانعت کرتا ہے یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر میں جھوٹ سے اس گورنمنٹ کو خوش کرنا چاہتا تو میں بار بار کیوں کہتا کہ عیسی بن مریم صلیب سے نجات پا کر اپنی موت طبعی سے ہم قام سری نگر کشمیر مر گیا اور نہ وہ خدا تھا اور نہ خدا کا بیٹا۔ کیا انگریز مذہبی جوش والے میرے اس فقرہ سے مجھ سے بیزار نہیں ہوں گے؟ پس سنو! اے نادانوں میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پر تلوار میں چلاتی ہے قرآن شریف کے رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے کیونکہ وہ بھی کوئی مذہبی جہاد نہیں کرتی اور ان کا شکر کرنا ہمیں اس لئے لازم ہے کہ ہم اپنا کام مکہ و مدینہ میں بھی نہیں کر سکتے تھے مگر ان کے ملک میں۔ یہ خدا کی طرف سے حکمت تھی کہ مجھے اس ﴿۲۹﴾ ملک میں پیدا کیا پس کیا میں خدا کی حکمت کی کسر شان کروں اور جیسا کہ قرآن شریف کی آیت وَ أَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِين لے میں اللہ تعالیٰ یہ بات ہمیں سمجھاتا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے بعد ہم نے عیسی مسیح کو صلیبی بلا سے رہائی دے کر اس کو اور اس کی ماں کو ایک ایسے اونچے ٹیلے پر جگہ دی تھی کہ وہ آرام کی جگہ تھی اور اس میں چشمے جاری تھے یعنی سری نگر کشمیر ۔ اسی طرح خدا نے مجھے اس گورنمنٹ کے اونچے ٹیلے پر جہاں مفسدین کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا جگہ دی جو آرام کی جگہ ہے اور اس ملک میں سچے علوم کے چشمے جاری ہیں اور مفسدوں کے حملوں سے امن اور قرار ہے پھر کیا واجب نہ تھا کہ ہم اس گورنمنٹ کے احسانات کا شکر کرتے۔ ل المؤمنون : ۵۱ منه