کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 566

کشتیءنوح — Page 73

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۷۳ کشتی نوح اس ثبوت میں پیش کرتے تھے لیکن جب حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی نسبت یہودیوں کے (۶۷) موعود مسیح ہونے کا دعوی کر دیا اور الیاس آسمان سے نہ اُتر ا جو اس دعوی کی شرط تھی تو یہ تمام عقیدے یہودیوں کے باطل ثابت ہو گئے اور وہ جو یہودیوں کے خیال میں تھا کہ ایلیا نبی بجسمہ العنصری آسمان سے نازل ہوگا اُس کے آخر کار یہ معنے کھلے کہ الیاس کی خواور طبیعت پر کوئی دوسرا شخص ظاہر ہو جائے گا اور یہ معنے حضرت عیسی نے خود بیان فرمائے جن کو دوبارہ آسمان سے اُتار رہے ہو۔ پس تم کیوں ایسی جگہ ٹھو کر کھاتے ہو جس جگہ تم سے پہلے یہود ٹھوکر کھا چکے ہیں تمہارے ملک میں ہزار ہا یہودی موجود ہیں تم ان کو پوچھ کر دیکھ لو کہ کیا یہود کا یہی اعتقاد نہیں جو اب تم ظاہر کر رہے ہو پس وہ خدا جس نے عیسی کی خاطر ایلیا نبی کو آسمان سے نہ اُتارا اور یہود کے سامنے اُس کو تاویلوں سے کام لینا پڑا وہ تمہاری خاطر کیونکر عیسی کو اُتارے گا جس کو تم دوبارہ اُتارتے ہواُسی کے فیصلہ سے تم منکر ہو اگر شک ہے تو کئی لاکھ عیسائی اس ملک میں موجود ہیں اور ان کی انجیل بھی موجود اُن سے دریافت کر لو کہ کیا یہ بچ نہیں ہے کہ حضرت عیسی نے یہی کہا تھا کہ ایلیا جو دوبارہ آنے والا تھا وہ یوتا ہی ہے یعنی بی۔ اور اتنی بات کہہ کر یہود کی پرانی امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ اگر آب یہ ضروری ہے کہ عیسی نبی ہی آسمان سے آوے تو اس صورت میں حضرت عیسی سچا نبی نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ اگر آسمان سے واپس آنا سنت اللہ میں داخل ہے تو الیاس نبی کیوں واپس نہ آیا اور کیوں اس جگہ بیٹی کو الیاس ٹھہرا کر تاویل سے کام لیا گیا عقلمند کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے۔ اور نیز جس کام کے لئے آپ لوگوں کے عقیدوں کے موافق مسیح ابن مریم آسمان سے آئے گا یعنی یہ کہ مہدی سے مل کر لوگوں کو جبراً مسلمان کرنے کے لئے جنگ کرے گا یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو اسلام کو بدنام کرتا ہے قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ مذہب کے لئے جبر درست ہے بلکہ اللہ تعالی تو قرآن شریف میں فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین میں جبر نہیں ہے پھر مسیح ابن مریم کو جبر کا اختیار کیونکر دیا جائے گا یہاں تک کہ بجز اسلام یا قتل کے البقره : ۲۵۷