کشتیءنوح — Page 72
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۷۲ کشتی نوح اور غصہ کے ساتھ گزریں گے خدا اُن لوگوں کی پناہ ہو جاتا ہے جو اُس کے ساتھ ہو جاتے ہیں سوخدا کی طرف آجاؤ اور ہر ایک مخالفت اُس کی چھوڑ دو اور اُس کے فرائض میں سستی نہ کرو اور اُس کے بندوں پر زبان سے یا ہاتھ سے ظلم مت کرو اور آسمانی قہر اور غضب سے ڈرتے رہو کہ یہی راہ نجات کی ہے۔ اے علماء اسلام میری تکذیب میں جلدی مت کرو کہ بہت اسرار ایسے ہوتے ہیں کہ انسان جلدی سے سمجھ نہیں سکتا۔ بات کو سن کر اسی وقت رد کرنے کے لئے تیار مت ہو جاؤ کہ یہ تقویٰ کا طریق نہیں ہے اگر تم میں بعض غلطیاں نہ ہوتیں اور اگر تم نے بعض احادیث کے الٹے معنی نہ سمجھے ہوتے تو مسیح موعود کا جو حکم ہے آنا ہی لغو تھا تم سے پہلے یہ عبرت کی جگہ موجود ہے کہ جس بات پر تم نے زور مارا ہے اور جس جگہ تم نے قدم رکھا ہے اُسی جگہ یہودیوں نے رکھا تھا یعنی جیسا کہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے منتظر ہو وہ بھی الیاس نبی کے دوبارہ آنے کے منتظر تھے اور کہتے تھے کہ مسیح تب آئے گا جب کہ پہلے الیاس نبی جو آسمان پر اُٹھایا گیا دوبارہ دنیا میں آ جائے گا اور جو شخص الیاس کے دوبارہ آنے سے پہلے مسیح ہونے کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے اور وہ نہ صرف احادیث کی رو سے ایسا خیال رکھتے تھے بلکہ خدا کی کتاب کو جو صحیفہ ملا کی نبی ہے حمد جو شخص بنی نوع پر قوت غضی کو بڑھاتا ہے وہ غضب سے ہی ہلاک کیا جاتا ہے اس لئے خدا نے سورۃ فاتحہ میں یہود کا نام مغضوب عليهم رکھا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ قیامت کو تو ہر ایک مجرم خدا کے غضب کا مزہ چکھے گا مگر جو نا حق دنیا میں غضب کرتا ہے وہ دنیا میں ہی الہی غضب کا مزہ چکھ لیتا ہے نصاری سے یہودیوں کی نسبت دنیا میں غضب ظہور میں نہ آیا اس لئے سورۃ فاتحہ میں ان کا نام ضالین رکھا گیا ضالین کے لفظ کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ وہ گمراہ ہیں اور دوسرے معنی اس کے ہیں کہ کھوئے جائیں گے یہ میرے نزدیک ان کے لئے بشارت ہے کہ کسی وقت جھوٹے مذہب سے نجات پا کر اسلام میں کھوئے جائیں گے۔ اور رفتہ رفتہ مشرکانہ عقائد اور ناقص یا قابل شرم رسوم کو چھوڑتے چھوڑتے برنگ مسلمین موحدین ہو جائیں گے غرض الضالین کے لفظ میں جو سورۃ فاتحہ کے آخر میں ضلالت کے دوسرے معنوں کے لحاظ سے کہ ایک چیز کا دوسری چیز میں محو ہونا اور کھوئے جانا ہے عیسائیوں کی آئندہ مذہبی حالت کے لئے یہ ایک پیشگوئی ہے۔ منہ