کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 566

کشتیءنوح — Page 71

روحانی خزائن جلد ۱۹ 21 کشتی نوح کے لئے عادت کر لیا جاتا ہے وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے سو تم اس سے بچو۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ تم کیوں ان چیزوں کو استعمال کرتے ہو جن کی شامت سے ہر ایک سال ہزار ہا تمہارے جیسے نشہ کے عادی اس دنیا سے کوچ کرتے جاتے ہیں اور آخرت کا عذاب الگ ہے۔ پرہیز گارانسان بن جاؤ تا تمہاری عمریں زیادہ ہوں اور تم خدا سے برکت پاؤ۔ حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کر ن لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ بد خلق اور بے مہر ہونا لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ خدا یا اس کے بندوں کی ہمدردی سے لاپروا ہونا لعنتی زندگی ہے ۔ ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائے گا جیسا کہ ایک فقیر بلکہ اس سے زیادہ ۔ پس کیا بد قسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے بکلی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے اور خدا کے حرام کو ایسی بیبا کی (۲۶) سے استعمال کرتا ہے کہ گویا وہ حرام اس کے لئے حلال ہے غصہ کی حالت میں دیوانوں کی طرح کسی کو گالی کسی کو زخمی اور کسی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور شہوات کے جوش میں بے حیائی کے طریقوں کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے سو وہ کچی خوشحالی کو نہیں پائے گا یہاں تک کہ مرے گا۔ اے عزیز وتم تھوڑے دنوں کے لئے دنیا میں آئے ہو اور وہ بھی بہت کچھ گزر چکی سو اپنے مولیٰ کو ناراض مت کرو ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبر دست ہوا اگر تم سے ناراض ہو تو وہ تمہیں تباہ کر سکتی ہے پس تم سوچ لو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے کیونکر تم بیچ سکتے ہو اگر تم خدا کی آنکھوں کے آگے متقی ٹھہر جاؤ تو تمہیں کوئی بھی تباہ نہیں کر سکتا اور وہ خود تمہاری حفاظت کرے گا اور دشمن جو تمہاری جان کے درپے ہے تم پر قابو نہیں پائے گاور نہ تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں اور تم دشمنوں سے ڈرکر یا اور آفات میں مبتلا ہو کر بیقراری سے زندگی بسر کرو گے اور تمہاری عمر کے آخری دن بڑے غم حمد یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسی علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے مگر اے مسلمانو! تمہارے نبی علیہ السلام تو ہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے جیسا کہ دو فی الحقیقت معصوم ہیں سو تم مسلمان کہلا کر کس کی پیروی کرتے ہو قرآن انجیل کی طرح شراب کو حلال نہیں ٹھہراتا پھر تم کسی دستاویز سے شراب کو حلال ٹھہراتے ہو۔ کیا مرنا نہیں ہے؟ منه