کشف الغطاء — Page 205
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۰۵ کشف الغطاء اخیر پر یہ امر قابل غور حکام ہے کہ صد با معزز اور شریف انسان میری پاک زندگی کے گواہ ہیں اور خود میری جماعت کے معزز عہدہ دار جو گورنمنٹ کی نظر میں خاص اعتبار کے لائق ہیں۔ ایسا ہی جو معزز ریکس اور تاجر ہیں میرے نیک اور شریفانہ چال چلن پر شہادت دے سکتے ہیں اور نہ میں ایسے خاندان سے ہوں کہ جو گورنمنٹ انگریزی کی نظر میں کبھی متہم تھا اور نہ کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی کوئی مجرمانہ حرکت مجھ سے ظہور میں آئی۔ اور میری جماعت میں اکثر معزز عہدہ دار اور رئیس اور شریف تعلیم یافتہ ہیں جو کسی بد چلن کے ساتھ تعلق مریدی نہیں رکھ سکتے اور محمد حسین سے میری کوئی ذاتی عداوت نہیں اور نہ کوئی مالی شراکت ۔ صرف مذہبی عقائد کا اختلاف ہے۔ ہاں چونکہ ان لوگوں نے قریباً ایک برس سے گالیاں دینا اور گندے اشتہار نکالنا اپنا طریق بنا لیا ہے ۔ اس لئے ان کے بہت سے اشتہارات کے بعد جو قریباً ایک برس تک میرے نام آتے رہے اور ان کی متواتر درخواست مباہلہ کے بعد جو بذریعہ اشتہارات کی گئی میر کی نیک نیتی اور خدا ترسی اور حلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ ۴۲۲ بجائے گالیوں کے خدا تعالیٰ سے بطور مباہلہ فیصلہ چاہوں اور یہ طریق مباہلہ میں نے اپنی طرف سے ایجاد نہیں کیا بلکہ یہ قدیم سے اسلام میں بطور سنت چلا آتا ہے۔ یہ اسلام کا طریق ہے کہ جو فیصلہ خود بخود نہ ہو سکے وہ بذریعہ مباہلہ خدا تعالیٰ پر ڈالا جائے مگر میں نے کسی کی موت یا کسی اور مصیبت کے لئے ہرگز یہ اشتہار نہیں لکھا۔ خلاصہ اشتہار صرف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ دونوں فریق میں سے جو ظالم ہو اس کو مثلی ذلت پہنچائے ۔ میری عادت ہرگز نہیں کہ میں کسی کی موت کی نسبت خود بخود پیشگوئی کروں ۔ چند آدمی جن کی نسبت اس سے پہلے پیشگوئی کی گئی تھی جیسے ڈپٹی آتھم اور پنڈت لیکھرام ۔ ان لوگوں نے خود اصرار کیا تھا اور نہایت اصرار سے اپنی دستی تحریر میں دی تھیں اور اس پر زور دیا تھا کہ ان کے حق میں پیشگوئی کی جائے ۔ اور لیکھرام نے علاوہ میری پیشگوئی کے میرے حق میں بھی پیشگوئی کی تھی اور اشتہار دیا تھا کہ یہ شخص تین سال تک ہیضہ سے مر جائے گا اور میری پیشگوئی کو اپنی رضامندی سے ہزاروں انسانوں میں اس نے شائع