کشف الغطاء — Page 202
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۰۲ کشف الغطاء لوٹ کے مالوں سے قطعی نومیدی ہو گئی اور مسیح موعود اور مہدی کی جگہ پر ایک غریب انسان آیا جو لڑائیوں سے منع کرتا اور بغاوت کے پلید منصوبوں سے روکتا اور غریبانہ زندگی کی تعلیم دیتا ہے۔ پھر ایسا انسان ان لوگوں کو کیونکر اچھا معلوم ہوتا۔ ناچار اس کے قتل اور صلیب دینے کے لئے فتوے لکھے گئے ۔ اس کی بیویوں اور اس کی جماعت کی عورتوں پر جبرا قبض کرنا اور ان سے نکاح کرنا دینداری کا اصول ٹھہرایا گیا ۔ گالیاں دینا اور جھوٹی تہمتیں لگانا اور اس کی بیوی کا ذکر کر کے پلید تہمتوں سے اس کو متھم کرنا ثواب کا کام سمجھا گیا اور پھر دوبارہ غیظ و غضب ان لوگوں کا اس بات سے بھی چکا کہ محمد حسین نے اپنے ایک رسالہ میں سلطان روم کی بہت تعریف کی تھی۔ اس کے مقابلہ پر میں نے ایک سفیر روم کی ملاقات کے بعد یہ اشتہار دیا کہ ہمیں سلطان روم کی نسبت سلطنت انگریزی کے ساتھ زیادہ وفاداری اور اطاعت دکھلانی چاہیئے ۔ اس سلطنت کے ہمارے سر پر وہ حقوق ہیں جو سلطان کے نہیں ہو سکتے ہر گز نہیں ہو سکتے ۔ اس میری تحریر پر مولویوں نے بہت شور مچایا اور سخت سخت گالیاں دیں اور میرے ساتھ اتفاق رائے صرف سرسید احمد خان کے ہی ۔ ایس ۔ آئی نے کیا ۔ جیسا کہ میں ان کی کلام کو جس کو انہوں نے اپنے اخبار میں شائع کیا تھا اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ بجز ان وجوہ کے اور کوئی وجہ عداوت ان لوگوں کی میرے ساتھ نہیں ہے ۔ گورنمنٹ انگریزی کے عالی مرتبہ حکام ان لوگوں کے اشتہارات کو غور سے پڑھ کر معلوم کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی درندگی کس حد تک پہنچ گئی ہے ۔ اور میری تعلیم جو مدت انیس برس سے اپنی جماعت کو دے رہا ہوں وہ بھی اس محسن گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ میں نے اپنی جماعت کے لئے لازم ا نوٹ:۔ دیکھو کتاب سیف مسلول صفحه ۳۲ ۴۰۰ مطبوعہ ایجرٹین پریس راولپنڈی بلا تاریخ اور اشتہار مولوی محمد و غیره مطبوعہ حقانی پریس لدہانہ مورخه ۲۹ / رمضان المبارک ۱۳۰۸ ه - منه