کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 550

کشف الغطاء — Page 200

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۰۰ کشف الغطاء انتہا تک کوشش کی گئی یہاں تک کہ میری مستورات پر محض مفسدانہ شرارت سے بدکاری اور زنا کا الزام لگایا گیا۔ اس درجہ کی دل آزاری اور بے حرمتی کے وقت جو انسانی غیرت کو حرکت میں لاتی ہے میرا حق تھا کہ میں عدالت میں نالش کرتا لیکن میں نے اپنے فقیرانہ اور صابرانہ طریق کے لحاظ سے کوئی نالش نہ کی اور ایک سال کے قریب تک ایسے اشتہارات جن کا ایک ایک لفظ میری بے عزتی کے لئے لکھا گیا تھا محمد حسین اور اس کے گروہ نے بذریعہ ڈاک قادیان میں میرے پاس پہنچائے حالانکہ میں ایسے گندے اخباروں اور اشتہاروں کا خریدار نہ تھا۔ پس جب کہ بار بار مجھے اس قسم کی گالیوں اور بہتانوں سے آزار پہنچایا گیا تو آخر میں نے مدت دراز کے صبر کے بعد نہایت نیک نیتی سے اشتہار ۲۱ نومبر ۹۸ء جو محض اس مضمون پر مشتمل تھا کہ جھوٹے کو خدا ذلیل کرے مگر اسی قسم کی ذلت سے جو اس نے پہنچائی جاری کیا۔ پانچویں شاخ قابل بیان یہ ہے کہ میرے ان دعووں سے پہلے میری نسبت ان لوگوں کا کیا طن تھا اور ان دعووں کے بعد کیوں اس قدر عداوت اختیار کی ؟ سو اس جگہ اس قد رلکھنا کافی ہے کہ شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ جو مخالفوں کا سرگروہ ہے میرے ان دعاوی سے پہلے میری نسبت نہایت درجہ کا مدح خواں تھا۔ مجھ کو ایک نیک انسان اور ولی اور مسلمانوں کا فخر اور گورنمنٹ انگریزی کا نہایت درجہ کا خیر خواہ سمجھتا تھا چنانچہ وہ اپنے پرچہ اشاعۃ السنه جون ۔ جولائی اگست ۱۸۸۴ء میں صفحہ ۱۶۹ میں میری نسبت لکھتا ہے کہ یہ شخص اسلام کی مالی و جانی قلمی ولسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے ۔ پھر اسی رسالہ کے صفحہ ۷۶ ا میں لکھتا ہے کہ ” مؤلف براہین احمدیہ ( یعنی اس راقم ) کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین ایسے واقف کم نکلیں گے ۔ مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے ہمارے ہم مکتب بھی ہیں ۔ ان کے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضی نے غدر ۱۸۵۷ء میں گورنمنٹ کا خیر خواہ ، جاں نثار وفادار ہونا عملاً بھی ثابت کر دکھایا اور پچاس گھوڑے گورنمنٹ کی مدد میں دیئے۔ اور پھر