کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 550

کشف الغطاء — Page 191

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹۱ کشف الغطاء تیسری شاخ میرے امور کی جس کو گورنمنٹ کی خدمت تک پہنچانا از حد ضروری ہے میرے وہ الہامی دعوے ہیں جو مذہب کے متعلق میں نے ظاہر کئے ہیں۔ جن کو بعض شریر اہل غرض خطرناک صورت پر اپنے رسالوں اور اخباروں میں لکھتے ہیں اور خلاف واقعہ باتیں کرتے ہیں اور افترا سے کام لیتے ہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ مجھے اپنی دانا گورنمنٹ کے سامنے اس بات کو مدلل لکھنے کی زیادہ ضرورت نہیں کہ وہ خدا جو اس دنیا کا بنانے والا اور آئندہ زندگی کی جاودانی امیدیں اور بشارتیں دینے والا ہے اس کا قدیم سے یہ قانون قدرت ہے کہ غافل لوگوں کی معرفت زیادہ کرنے کے لئے بعض اپنے بندوں کو اپنی طرف سے الہام بخشتا ہے اور ان سے کلام کرتا ہے اور اپنے آسمانی نشان اُن پر ظاہر کرتا ہے اور اس طرح وہ خدا کو روحانی آنکھوں کے سے دیکھ کر اور یقین اور محبت سے معمور ہو کر اس لائق ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کو بھی اس زندگی کے چشمہ کی طرف کھینچیں جس سے وہ پیتے ہیں تا غافل لوگ خدا سے پیار کر کے ابدی نجات کے مالک ہوں اور ہر ایک وقت میں جب دنیا میں خدا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور غفلت کی وجہ سے حقیقی پاک باطنی میں فتور آتا ہے تو خدا کسی کو اپنے بندوں میں سے الہام دے کر دلوں کو صاف کرنے کے لئے کھڑا کر دیتا ہے۔ سو اس زمانہ میں اس کام کے لئے جس شخص کو اُس نے اپنے ہاتھ سے صاف کر کے کھڑا کیا ہے وہ یہی عاجز ہے اور یہ عاجز خدا کے اُس پاک اور مقدس بندہ کی طرز پر دلوں میں حقیقی پاکیزگی کی تخم ریزی کے لئے کھڑا کیا گیا ہے جو آج سے قریباً انہیں سو برس پہلے رومی سلطنت کے زمانہ میں گلیل کی بستیوں میں حقیقی نجات پیش کرنے کے لئے کھڑا ہوا تھا اور پھر پیلاطوس کی حکومت میں یہودیوں کی بہت سی ایڈا کے بعد اُس کو خدا کی قدیم سنت کے موافق ان ملکوں سے ہجرت کرنی پڑی اور وہ ہندوستان میں تشریف لائے تا اُن یہودیوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں جو بابل کے تفرقہ کے وقت ان ملکوں میں آئے تھے اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں اس نا پائدار دنیا کو چھوڑ کر اپنے