کشف الغطاء — Page 190
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹۰ کشف الغطاء اب خلاصہ کلام یہ کہ میری تعلیم یہی ہے جو اس جگہ میں نے نمونہ کے طور پر لکھی ہے ۔ اور میری جماعت وہ گروہ معزز اور غریب طبع اور نیک چلن انسانوں کا ہے کہ میں ہر گز گمان نہیں کر سکتا کہ گورنمنٹ ان کی نسبت یہ رائے ظاہر کرے کہ یہ لوگ اپنے چال چلن اور رویہ کے لحاظ سے خطرناک یا مشتبہ ہیں۔ یہ میرے سلسلہ کی خوش قسمتی ہے کہ وحشی اور نادانوں اور بدچلنوں نے میری طرف رجوع نہیں کیا بلکہ شریف اور معزز اور تعلیم یافتہ اور دیسی افسر اور اچھے اچھے عہدوں کے سرکاری ملازموں سے میری جماعت پر ہے۔ اور تنگ خیالات کے متعصب اور جاہل مسلمان جو وحشی اور نفسانی جذبات کے نیچے دبے ہوئے اور تار یک خیال ہیں وہ اس جماعت سے کچھ تعلق نہیں رکھتے بلکہ بخل اور عناد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور دل آزاری کے منصوبوں میں مشغول بقیه حاشیه ہیں اور کافر کافر کہتے ہیں۔ یہ پاک سلسلہ اس گورنمنٹ کے ماتحت بر پا کیا ہے۔ وہ لوگ میرے نز دیک سخت نمک حرام ہیں جو حکام انگریزی کے رو بروئے ان کی خوشامد میں کرتے ہیں اُن کے آگے گرتے ہیں اور پھر گھر میں آ کر کہتے ہیں کہ جو شخص اس گورنمنٹ کا شکر کرتا ہے وہ کافر ہے۔ یاد رکھو اور خوب یا درکھو کہ ہماری یہ کارروائی جو اس گورنمنٹ کی نسبت کی جاتی ہے منافقانہ نہیں ہے ولعنة الله على المنافقين بلکہ ہمارا یہی عقیدہ ہے جو ہمارے دل میں ہے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ مع تہذیب الا خلاق ۲۴ ؍ جولائی ۱۸۹۷ء یه مضمون خیر خواهی گورنمنٹ انگریزی میں نے اُس وقت شائع کیا تھا جن دنوں میں مولوی محمد حسین بٹالوی اور دوسرے لوگوں نے سلطان روم کی تعریف میں مضمون لکھے تھے اور بوجہ خیر خواہی اس گورنمنٹ کے مجھ کو کافر ٹھہرایا تھا۔ سید احمد خان صاحب خوب جانتے تھے کہ کس قدر میں انگریزی گورنمنٹ کا خیر خواہ اور امن پسند انسان ہوں اس لئے میں نے ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں سید صاحب کو اپنی صفائی کا گواہ لکھوایا تھا۔منہ۔