کشف الغطاء — Page 189
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۸۹ کشف الغطاء کچھ اور ہوں ۔ پس کیا نیک دل اور دانشمند انسان ایک دم کے لئے بھی ایسے شریر کے 9) ساتھ رہ سکتے ہیں ۔ گورنمنٹ کے لئے یہ بات نہایت اطمینان بخش ہے کہ میری جماعت کے لوگ جاہل، وحشی، او باش ، بد معاش اور بد رو یہ لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے نیک انسان اور نیک چلنی میں شہرت یافتہ ہیں جو کئی ان میں سے گورنمنٹ کی نظر میں نیک چلنی اور نیک مزاجی اور پاک دلی اور خیر خواہی سرکار میں مسلم ہیں اور گورنمنٹ کی طرف سے معزز عہدوں پر سرفراز ہیں ۔ سرسید احمد خاں صاحب کے ہی ۔ ایس ۔ آئی نے جو اپنے آخری وقت میں یعنی موت سے تھوڑے دن پہلے میری نسبت ایک شہادت شائع کی ہے۔ اس سے گورنمنٹ عالیہ سمجھ سکتی ہے کہ اس دانا اور مردم شناس شخص نے میرے طریق اور رویہ کو بدل پسند کیا ہے چنانچہ حاشیہ میں ان کے کلمات کو درج کرتا ہو تی ہے۔ مرزاغلام احمد صاحب قادیانی مرزا صاحب نے جو اشتہار ۲۵ / جوان ۱۸۹۷ء کو جاری کیا ہے اس اشتہار میں مرزا صاحب نے ایک نہایت عمد و فقره گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور وفاداری کی نسبت لکھا ہے ۔ ہمارے نزدیک ہر ایک مسلمان کو جو گورنمنٹ انگریزی کی رعیت ہے ایساہی ہونا چاہیے جیسا مرزا صاحب نے لکھا ہے۔ اس لئے ہم اُس فقرہ کو اپنے اخبار میں چھاپتے ہیں۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی کی نسبت جو میرے پر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ بھی محض شرارت ہے۔ سلطان روم کے حقوق بجائے خود ہیں مگر اس گورنمنٹ کے حقوق بھی ہمارے سر پر ثابت شدہ ہیں اور ناشکر گذاری ایک بے ایمانی کی قسم ہے۔ اے نادانو ! گورنمنٹ انگریزی کی تعریف تمہاری طرح میری قلم سے منافقانہ نہیں نکلتی بلکہ میں اپنے اعتقاد اور یقین سے جانتا ہوں کہ در حقیقت خدا تعالیٰ کے فضل سے اس گورنمنٹ کی پناہ ہمارے لئے بالواسطہ خدا تعالی کی پناہ ہے اس سے زیادہ اس گورنمنٹ کی پر امن سلطنت ہونے کا اور کیا میرے نزدیک ثبوت ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے