کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 550

کشف الغطاء — Page 188

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۸۸ کشف الغطاء بچے ناصح بنو اور چاہیے کہ فساد انگیز لوگوں اور شریر اور بد معاشوں اور بدچلنوں کو ہرگز تمہاری مجلس میں گذر نہ ہو۔ ہر ایک بدی سے بچو اور ہر ایک نیکی کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو اور چاہیے کہ تمہارے دل فریب سے پاک اور تمہارے ہاتھ ظلم سے بری اور تمہاری آنکھیں ناپاکی سے منزہ ہوں اور تم میں بھی بدی اور بغاوت کا منصوبہ نہ ہونے پاوے اور چاہیے کہ تم اس خدا کے پہچاننے کے لئے بہت کوشش کرو جس کا پانا عین نجات اور جس کا ملنا عین رستگاری ہے۔ وہ خدا اُسی پر ظاہر ہوتا ہے جو دل کی سچائی اور محبت سے اُس کو ڈھونڈتا ہے۔ وہ اسی پر تجلی فرماتا ہے جو اُسی کا ہو جاتا ہے۔ وہ دل جو پاک ہیں وہ اس کا تخت گاہ ہیں اور وہ زبانیں جو جھوٹ اور گالی اور یاوہ گوئی سے منزہ ہیں وہ اُس کی وحی کی جگہ ہیں اور ہر ایک جو اس کی رضا میں فنا ہوتا ہے اس کی اعجازی قدرت کا مظہر ہو جاتا ہے۔ یہ نمونہ اُس تعلیم کا ہے جو انیس برس سے اس جماعت کو دی جاتی ہے۔ اس لئے میں یقین کرتا ہوں کہ یہ جماعت خدا سے ڈرنے والی اور گورنمنٹ برطانیہ کی دل سے تابعدار اور شکر گزار اور بنی نوع کی ہمدرد ہے ۔ ان میں وحشیانہ جوش نہیں ان میں درندگی کی خصلتیں نہیں۔ اگر گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام ایک ذرہ تکلیف اٹھا کر میری انیس برس ۱۹ کی تالیفات کو غور سے دیکھیں تو وہ اس تعلیم کو جو میں نے نمونہ کے طور پر لکھی ہے میری اکثر کتابوں میں پائیں گے۔ کوئی مرید مرید نہیں رہ سکتا جب تک اپنے مرشد میں قول اور فعل کی مطابقت نہ پاوے۔ پھر اگر میرا قول تو یہ ہو جو میں نے اس کا نمونہ لکھا ہے اور میرے فعل اس کے بر خلاف ہوں تو کیونکر دانشمند انسانوں کا مجھے پر اعتقاد رہ سکتا ہے حالانکہ میری جماعت میں بہت سا صہ عقلمندوں اور تعلیم یافتہ لوگوں کا ہے۔ ان میں بعض اشخاص گورنمنٹ کے معزز عہدوں پر ہیں یعنی تحصیلدار اور اکسٹرا اسٹنٹ اور وکلاء اور ڈاکٹر اسٹنٹ سرجن اور پنجاب کے معزز امیر اور رئیس اور تاجر ہیں جن کے نام وقا فوقا میں شائع کرتا رہتا ہوں ۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اس سے زیادہ کوئی بد ذاتی نہیں کہ کسی کی تعلیم تو کچھ ہو اور خفیہ کارروائیاں