کشف الغطاء — Page 186
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۸۶ کشف الغطاء پر زور تحریریں گورنمنٹ انگریزی کی حمایت میں متعصب اور نادان مسلمانوں کے لئے قابل برداشت نہ تھیں اور اب اہل عقل جب ایک طرف دینی حمایت کے مضمون میری تحریروں میں پاتے ہیں اور دوسری طرف میری یہ نصیحتیں سنتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی اور اطاعت کرنی چاہیے تو وہ میرے پر کوئی بدظنی نہیں کر سکتے اور کیونکر کریں یہ ایک واقعی امر ہے کہ مسلمانوں کو خدا اور رسول کا حکم ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت ہوں وفاداری سے اس کی اطاعت کریں۔ میں نے اپنی کتابوں میں یہ شرعی احکام مفصل بیان کر دیئے ہیں ۔ اب گورنمنٹ غور فرما سکتی ہے کہ جس حالت میں میرا باپ گورنمنٹ کا ایسا سچا خیر خواہ تھا اور میرا بھائی بھی اُسی کے قدم پر چلا تھا اور میں بھی انیس برس سے یہی خدمت اپنی قلم کے ذریعہ سے بجالاتا ہوں تو پھر میرے حالات کیونکر مشتبہ ہو سکتے ہیں۔ میری تمام جوانی اسی راہ میں گذری اور اب دائم المرض اور پیرانہ سالی کے کنارے پر پہنچ گیا ہوں اور ساٹھ سال کے قریب ہوں ۔ وہ شخص سخت ظلم کرتا ہے کہ جو میرے وجود کو گورنمنٹ کے لئے خطرناک ٹھہراتا ہے۔ میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ مذہبی امور کے متعلق بھی میں نے کتابیں تالیف کی ہیں اور نہ مجھے اس سے انکار ہے کہ پادری صاحبوں کے عقائد کے مخالف بھی میری تحریر میں شائع ہوئی ہیں جن کو وہ اپنے مذہبی خیالات کے لحاظ سے پسند نہیں کر سکتے ۔ لیکن میرے لئے میری نیک نیتی کافی ہے جس کو خدا تعالیٰ جانتا ہے اور میری مخالفت عام مسلمانوں کی طرز مخالفت سے علیحدہ ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ مذہبی امور میں اس قدر غصہ بڑھایا جائے کہ مخالفوں کے حملوں کو قانونی جرائم کے نیچے لا کر گورنمنٹ سے ان کو سزا دلائی جائے یا اُن سے کینہ رکھا جائے بلکہ میرا اصول یہ ہے کہ مذہبی مباحثات میں صبر اور اخلاق سے کام لینا چاہیے۔ اسی وجہ سے جب عام مسلمانوں نے مصنف کتاب امہات المومنین کے سزا دلانے کے لئے انجمن حمایت اسلام کے ذریعہ سے گورنمنٹ میں میموریل بھیجے تو میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا بلکہ اُن کے برخلاف میموریل بھیجا اور صاف طور پر لکھا کہ مذہبی امور میں اگر کوئی رنج دہ امر پیش آوے تو اسلام کا اصول عفو