کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 550

کشف الغطاء — Page 185

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۸۵ کشف الغطاء المرقوم ۲۹ جون ۱۸۷۶ء الراقم سر رابرٹ ایجرٹن صاحب بہادر فنانشل کمشنر پنجاب یہ تو میرے باپ اور میرے بھائی کا حال ہے اور چونکہ میری زندگی فقیرانہ اور درویشانہ طور پر ہے اس لئے میں اسی درویشانہ طرز سے گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور امداد میں مشغول رہا ہوں۔ قریباً انہیں برس سے ایسی کتابوں کے شائع کرنے میں میں نے اپنا وقت بسر کیا ہے جن (۴) میں یہ ذکر ہے کہ مسلمانوں کو سچے دل سے اس گورنمنٹ کی خدمت کرنی چاہیے اور اپنی فرمانبرداری اور وفاداری کو دوسری قوموں سے بڑھ کر دکھلانا چاہیے اور میں نے اسی غرض سے بعض کتابیں عربی زبان میں لکھیں اور بعض فارسی زبان میں اور ان کو دور دور ملکوں تک شائع کیا۔ اور اُن سب میں مسلمانوں کو بار بار تاکید کی اور معقول وجوہ سے ان کو اس طرف جھکا یا کہ وہ گورنمنٹ کی اطاعت بدل و جان اختیار کریں اور یہ کتابیں عرب اور بلا وشام اور کاہل اور بخارا میں پہنچائی گئیں ۔ اگر چہ میں سنتا ہوں کہ بعض نادان مولویوں نے ان کے دیکھنے سے مجھے کافر قرار دیا ہے اور میری تحریروں کو اس بات کا ایک نتیجہ ٹھہرایا ہے کہ گویا مجھے سلطنت انگریزی سے ایک اندرونی اور خفیہ تعلق ہے اور گویا میں ان تحریروں کے عوض میں گورنمنٹ سے کوئی انعام پاتا ہوں لیکن مجھے یقیناً معلوم ہوا ہے کہ بعض دانشمندوں کے دلوں پر ان تحریروں کا نہایت نیک اثر ہوا ہے اور انہوں نے ان وحشیانہ عقائد سے تو بہ کی ہے جن میں وہ بر خلاف اغراض اس گورنمنٹ کے مبتلا تھے ۔ ان نیک تاثیرات کے لئے میری مذہبی تحریریں جو پادریوں کے مخالف تھیں بڑی محرک ہوئی ہیں ورنہ جس زور کے ساتھ میں نے مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی اطاعت کے لئے بلایا ہے اور جابجا سرحدی نادان ملا ؤں کو جو ناحق آئے دن فتنه انگیزی کرتے اور افغانوں کو مخالفت کے لئے ابھارتے ہیں سرزنش کی ہے ،