کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 417

کرامات الصادقین — Page 45

روحانی خزائن جلدے ۴۵ كرامات الصادقين آما بعد واضح ہو کہ موافق اس سنت غیر متبدلہ کے کہ ہر یک غلبه تاریکی کے وقت خدا تعالی (۳) اس امت مرحومہ کی تائید کے لئے توجہ فرماتا ہے اور مصلحت عامہ کے لئے کسی اپنے بندہ کو خاص کر کے تجدید دین متین کے لئے مامور فرما دیتا ہے یہ عاجز بھی اس صدی کے سر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجدد کا خطاب پاکر مبعوث ہوا اور جس نوع اور قسم کے فتنے دنیا میں پھیل رہے تھے ان کے رفع اور دفع اور قلع قمع کے لئے وہ علوم اور وسائل اس عاجز کو عطا کئے گئے کہ جب تک خاص عنایت الہی ان کو عطا نہ کرے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتے مگر افسوس کہ جیسا قدیم سے نا تمام اور ناقص الفہم علماء کی عادت ہے کہ بعض اسرار اپنے فہم سے بالا تر پا کر منبع اسرار کو کا فرٹھہراتے رہے ہیں اسی راہ پر اس زمانہ کے بعض مولوی صاحبوں نے بھی قدم مارا اور ہر چند نصوص قرآنید و حدیثیہ سے سمجھایا گیا۔ مگر ایک ذرہ بھی صدق کی روشنی ان کے دلوں پر نہ پڑی بلکہ برعکس اس کے تکفیر اور تکذیب کے بارہ میں وہ جوش دکھلایا کہ نہ صرف کافر کہنے پر کفایت کی بلکہ اکفر نام رکھا اور ایک مومن اہل قبلہ کے خلود جہنم پر فتوے لکھے۔ اس عاجز نے بار بار خداوند کریم کی قسمیں کھا کر بلکہ مسجد میں جو خانہ خدا ہے بیٹھ کر ان پر ظاہر کیا کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ پر ایمان لاتا ہوں مگر ان بزرگوں نے قبول نہ کیا اور کہا کہ یہ منافقانہ اقرار ہے۔ خاص کر ان میں سے جو میاں محمد حسین بتالوی ہیں انہوں نے تو اپنی ضد کو کمال تک پہنچادیا اور کہا کہ اگر میں بچشم خود نشان بھی دیکھوں تو میں ہرگز مسلمان نہ سمجھوں گا اور ہمیشہ کا فر کہتا رہوں گا۔ چنانچہ بعض نشان بھی ظاہر ہوئے مگر حضرت بطالوی صاحب نے ان کا نام استدراج یا نجوم رکھا اور ہر ایک طور سے لوگوں کو دھو کے دیئے۔ چنانچہ منجملہ ان دھوکوں کے ایک یہ بھی ہے کہ یہ شخص بالکل جاہل اور علوم عربیہ سے بالکل بے بہرہ ہے اور مع ذالک دجال اور مفتری جو خدا تعالی سے بھی کچھ مدد نہیں پاسکتا اور اپنی عربی دانی کو بہت کروفر سے بیان کیا تا اس وجہ سے اس کی عظمت دلوں میں جم جاوے اور اس عاجز کو ایک جاہل اور اُقی اور علوم عربیہ سے