کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 417

کرامات الصادقین — Page 62

روحانی خزائن جلدے ۶۲ كرامات الصادقين (۲۰) اگر قرآن کریم میں ایسے عجائبات اور خواص مخفیہ تھے تو پہلوں کا کیا گناہ تھا کہ اُن کو ان اسرار سے محروم رکھا گیا ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بکلی اسرار قرآنی سے محروم تو نہیں رہے بلکہ جس قدر معلومات عرفانیہ خدا تعالیٰ کے ارادہ میں ان کے لئے بہتر تھے وہ اُن کو عطا کئے گئے اور جس قدر اس زمانہ کی ضرورتوں کے موافق اس زمانہ میں اسرار ظاہر ہونے ضروری تھے وہ اس زمانہ میں ظاہر کئے گئے۔ مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے وہ ہر زمانہ میں برابر طور پر شائع ہوتی رہیں۔ میں متعجب ہوں کہ اِن ناقص الفہم مولویوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ خدا تعالیٰ پر یہ حق واجب ہے کہ جو کچھ آئندہ زمانہ میں بعض آلاء و نعماء حضرت باری عزاسمہ ظاہر ہوں پہلے زمانہ میں بھی ان کا ظہور ثابت ہو بلکہ اس بات کے ماننے کے بغیر کسی صحیح الحواس کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ بعض نعماء الہی پچھلے زمانہ میں ایسے ظاہر ہوتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں ان کا اثر اور وجود پایا نہیں جاتا ۔ دیکھو جس قد رصد با نباتات جدیدہ کے خواص اب دریافت ہوئے ہیں یا جس قدر انسانوں کے آرام کے لئے طرح طرح کے صناعات اور سواریاں اور سہولت معیشت کی باتیں اب نکلی ہیں پہلے اُن کا کہاں وجود تھا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ ایسے حقائق دقائق قرآنی کا نمونہ کہاں ہے جو پہلے دریافت نہیں کئے گئے تو اسکا جواب یہ ہے کہ اس رسالہ کے آخر میں جو سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے اس کے پڑھنے سے تمہیں معلوم ہوگا کہ اس قسم کے حقائق اور معارف مخفیہ قرآن کریم میں موجود ہیں جو ہر یک زمانہ میں اُس زمانہ کی ضرورتوں کے موافق ہیں۔ بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ یہ قصائد اور یہ تفسیر کسی غرض خود نمائی اور خودستائی سے نہیں لکھی گئی بلکہ محض اس غرض سے کہ تا میاں بطالوی اور اُن کے ہم خیال لوگوں کی نسبت منصف لوگوں پر یہ ظاہر ہو کہ وہ اپنے اس اصرار میں کہ یہ عاجز مفتری اور دجال اور ساتھ اس کے بالکل علم ادب سے بے بہرہ اور قرآن کریم کے حقائق و معارف سے بے نصیب ہے