کرامات الصادقین — Page 63
روحانی خزائن جلدے ۶۳ كرامات الصادقين اور وہ لوگ بڑے اعلیٰ درجے کے عالم فاضل ہیں کس قدر کا ذب اور دروغگو اور دین اور (۲) کی دیانت سے دور ہیں اگر میاں بطالوی اپنے ان بیانات اور ہذیانات میں جو اُس نے اس عاجز کے نادان اور جاہل اور مفتری ہونے کے بارہ میں اپنے اشاعۃ السنۃ میں شائع کئے ہیں دیانتدار اور راست گو ہے تو کچھ شک نہیں کہ اب بلا حجت وحیلہ ان قصائد اور تفسیر کے مقابلہ پر اپنی طرف سے اسی قدر اور تعداد اشعار کے لحاظ سے چار قصیدے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اور نیز سورۃ فاتحہ کی تفسیر بھی شائع کرے گا۔ تا سیہ رُوئے شود ہر کہ در وغش باشد ۔ اور ایسا ہی وہ تمام مولوی جن کے سر میں تکبر کا کیڑا ہے اور جو اس عاجز کو با وجود بار بار اظہار ایمان کے کافر اور مرتد خیال کرتے ہیں اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھتے ہیں اس مقابلہ کے لئے مدعو ہیں چاہے وہ دہلی میں رہتے ہوں جیسا کہ میاں شیخ الکل اور یا لکھو کے میں جیسا کہ میاں محی الدین بن مولوی محمد صاحب اور یا لاہور میں یا کسی اور شہر میں رہتے ہوں اور اب ان کی شرم اور حیا کا تقاضا یہی ہے کہ مقابلہ کریں اور ہزار روپیہ لیویں ان کو اختیار ہے کہ بالمقابل جو ہر علمی دکھلانے کے وقت ہماری غلطیاں نکالیں ہماری صرف و نحو کی آزمائش کریں اور ایسا ہی اپنی بھی آزمائش کرا دیں لیکن یہ بات بے حیائی میں داخل ہے که بغیر اس کے جو ہمارے مقابل پر اپنا بھی جو ہر دکھلاویں یکطرفہ طور پر اُستاد بن بیٹھیں۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ شیخ بطالوی نے جس قدر اس عاجز کی بعض عربی عبارات سے غلطیاں نکالی ہیں اگر ان سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ اب اس شیخ کی خیرگی اور بے حیائی اس درجہ تک پہنچ گئی ہے کہ صحیح اس کی نظر میں غلط اور فصیح اس کی نظر میں غیر فصیح دکھائی دیتا ہے۔ اور معلوم نہیں کہ یہ نادان شیخ کہاں تک اپنی پردہ دری کرانا چاہتا ہے اور کیا کیا ذلتیں اس کے نصیب ہیں بعض اہل علم ادیب اس کی یہ باتیں سن کر اور اس کی اس قسم کی نکتہ چینیوں پر اطلاع پا کر اس پر روتے ہیں کہ یہ شخص کیوں اس قدر جہل مرکب کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھ دیا ہے اور اب پھر ناظرین کی