جنگ مقدّس — Page 290
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۸۸ جنگ مقدس کہہ دیتے ہیں اور زمین کو ساکن کہہ دیتے ہیں پس جب کہ انہیں اقسام میں سے یہ بھی ہے تو اس سے کیوں انکار کیا جائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ کلام مجسم بھی ایک استعارہ ہے مگر کوئی شخص ثبوت دے کہ دنیا میں یہ کہاں بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص کلام مجسم ہو کر آیا ہے اور گوڈنس کی تاویل پھر آپ تکلف سے کرتے ہیں۔ میں کہہ چکا ہوں کہ گوڈنس یعنی احسان کوئی صفت صفات ذاتیہ میں سے نہیں ہے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے رحم آتا ہے یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے احسان آتا ہے مگر آپ پوچھتے ہیں کہ اگر یونہی بغیر کسی کی مصیبت دیکھنے کے اس سے خوش سلوکی کی جائے تو اس کو کیا کہیں گے ۔ سو آپ کو یادر ہے کہ وہ (۱۸۶) بھی رحم کے وسیع مفہوم میں داخل ہے کوئی انسان کسی سے خوش سلو کی ایسی حالت میں کرے گا کہ جب اول کوئی قوت اس کے دل میں خوش سلو کی کے لیے وجوہات پیش کرے اور اس کو خوش سلو کی کرنے کے لئے رغبت دے تو پھر قوت رحم ہے جو نوع انسان کی ہر ایک قسم کی ہمدردی کے لئے جوش مارتی ہے اور جب تک کوئی شخص قابل خوش سلوکی کے قرار نہ پاوے اور کسی جہت سے قابل رحم نہ نظر آوے بلکہ قابل قہر نظر آوے تو کون اس سے خوش سلو کی کرتا ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ حیوانات کو قتل ہوتے دیکھ کر کیا ہم فرض کر لیں کہ خدا نے ظلم کیا۔ میں کہتا ہوں میں نے کب اس کا نام ظلم رکھا ہے میں تو کہتا ہوں کہ یہ عمل درآمد مالکیت کی بنا پر ہے۔ جب آپ اس بات کو مان چکے کہ تفاوت مراتب مخلوقات یعنی انسان و حیوانات کا بوجہ مالکیت ہے اس کی تاریخ وجہ نہیں تو پھر اس بات کو مانتے ہوئے کونسی سد راہ ہے جو دوسرے لوازم جو حیوان بننے سے پیش آگئے وہ بھی بوجہ مالکیت ہیں اور بالآخر قرآن کریم کے بارہ میں آپ پر ظاہر کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے اپنے کلام اللہ ہونے کی نسبت جو ثبوت دیئے ہیں۔ اگر چہ میں اس وقت ان سب ثبوتوں کو تفصیل وار نہیں لکھ سکتا لیکن اتنا کہتا ہوں کہ منجملہ ان ثبوتوں کے بیرونی دلائل جیسے پیش از وقت نبیوں کا خبر دینا جو انجیل میں بھی لکھا ہوا آپ پاؤ گے۔ دوسرے ضرورت حقہ کے وقت پر قرآن شریف کا آنا یعنی ایسے وقت پر جبکہ عملی حالت تمام دنیا کی بگڑ گئی تھی اور نیز اعتقادی حالت میں بھی بہت اختلاف آگئے تھے اور اخلاقی حالتوں میں بھی فتور آ گیا تھا۔ تیسرے اس کی حقانیت کی دلیل اس کی تعلیم کامل ہے کہ اس نے آکر ثابت کر دکھلایا کہ موسیٰ کی تعلیم بھی ناقص تھی جو ایک شق سزا دہی پر زور ڈال رہی تھی اور مسیح کی تعلیم بھی ناقص تھی جو