جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 502

جنگ مقدّس — Page 291

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۸۹ جنگ مقدس ایک شق عفو اور در گذر پر زور ڈال رہی تھی اور گویا ان کتابوں نے انسانی درخت کی تمام شاخوں کی تربیت کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا صرف ایک ایک شاخ پر کفایت کی گئی تھی لیکن قرآن کریم انسانی درخت کی تمام شاخوں یعنی تمام قومی کو زیر بحث لایا اور تمام کی تربیت کے لئے اپنے اپنے محل و موقع پر حکم دیا۔ جس کی تفصیل ہم اس تھوڑے سے وقت میں کر نہیں سکتے ۔ انجیل کی کیا تعلیم تھی جس پر مدار رکھنے سے سلسلہ دُنیا کا ہی بگڑتا ہے اور پھر اگر یہی عفو اور در گذر عمدہ تعلیم کہلاتی ہے تو جین مت والے کئی نمبر اس سے بڑھے ہوئے ہیں جو کیڑے مکوڑوں اور جوؤں اور سانپوں تک آزار دینا نہیں چاہتے ۔ قرآنی تعلیم کا دوسرا کمال کمال تفہیم ہے یعنی اس نے ان تمام راہوں کو سمجھانے کے لئے اختیار کیا ہے جو تصور میں آسکتے ہیں اگر ایک عامی ہے تو اپنی موٹی سمجھ کے موافق اس سے فائدہ اٹھا تا۔ اور اگر ایک فلسفی ہے تو اپنے دقیق خیال کے مطابق اس سے صداقتیں حاصل کرتا ہے اور اس نے تمام اصول ایمانیہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے دکھلا دیا ہے اور آیت تعالوا إلى كَلِمَةٍ مم میں اہل کتاب پر یہ حجت پوری کرتا ہے کہ اسلام وہ کامل مذہب ہے کہ زوائد اختلافی جو تمہارے ہاتھ میں ہیں یا (۱۸۷ تمام دنیا کے ہاتھ میں ہیں۔ ان زوائد کو نکال کر باقی اسلام ہی رہ جاتا ہے اور پھر قرآن کریم کے کمالات میں تیسرا حصہ اس کی تاثیرات ہیں اگر حضرت مسیح کے حواریوں اور ہمارے نبی صلعم کے صحابہ کا ایک نظر صاف سے مقابلہ کیا جائے تو ہمیں کچھ بتلانے کی حاجت نہیں اس مقابلہ سے صاف معلوم ہو جائے گا کہ کسی تعلیم نے قوت ایمانی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے اس تعلیم کی محبت سے اور رسول کے عشق سے اپنے وطنوں کو بڑی خوشی سے چھوڑ دیا اپنے آراموں کو بڑی راحت کے ساتھ ترک کر دیا۔ اپنی جانوں کو فدا کر دیا۔ اپنے خونوں کو اس راہ میں بہا دیا اور کس تعلیم کا یہ حال ہے۔ اس رسول کو یعنی حضرت مسیح کو جب یہودیوں نے پکڑا تو حواری ایک منٹ کے لئے بھی نہ ٹھہر سکے۔ اپنی اپنی راہ لی اور بعض نے تمیں روپیہ لے کر اپنے نبی مقبول کو بیچ دیا۔ اور بعض نے تین دفعہ انکار کیا اور انجیل کھول کر دیکھ لو کہ اس نے لعنت بھیج کر اور قسم کھا کر ال عمران : ۶۵