جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 502

جنگ مقدّس — Page 285

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۸۳ جنگ مقدس قائم ہوتی ہے کہ وہ سات قو میں ایسی زیر غضب الہی کے تھیں کہ جیسے نوح کے زمانہ میں اور لوط کے زمانہ میں قہر آیا اور سب کو برباد کر گیا ایسا ہی ان کے واسطے بھی تیغ بنی اسرائیل سے بربادی کا حکم ہوا ۔ معصوم بچوں کا جو آپ اعتراض پکڑتے ہیں کہ موسیٰ کی جنگوں میں ہوا ایسا ہی تو ہر وہا میں ہوتا ہے آپ کو ماننا پڑے گا کہ یا تو موسیٰ کا بیان حکم الہی مانیں اور یا اس سے بر کنار ہو کر فرما دیں کہ توریت کلام الہی نہیں آپ ادھر میں نہیں لٹک سکتے ۔ آپ کے مذہب پر یہ اعتراض اس لئے ہے کہ شرط امان کی انحصار ایمان پر کرتی ہے۔ ان سات قوموں سے صلح نہیں کی گئی یہ آپ کا بیان غلط ہے اور عورتیں سب اُن کی نہیں رکھی گئیں مگر شاذ و نادر چند کے بچا دینے کے لئے بنی اسرائیل کو اجازت دی گئی اور ایسی عورتوں کے واسطے اجازت دی گئی کہ جن کا پیچھے رونے والا کوئی نہ تھا۔ اور اگر اُن کے رکھنے کے واسطے اجازت نہ دی جاتی تو اُن کے مار ڈالنے سے یہ بدتر نہ ہوتا۔ ۔ آپ تسلیم فرماتے ہیں کہ جس کو اجازت صلح کی دی گئی تو اگر ایمان کے واسطے ایسا کیا جائے تو کسی قدر جبر جائز مانا جائے گا مگر فلسطیوں کی ان سات قوموں کے واسطے صلح کی اجازت کبھی نہیں دی گئی اور جزیہ دینا ان سے قبول کبھی نہیں ہوا۔ اور وہ مثل وبا کے تہ تیغ ہی کئے گئے ۔ پھر جناب قرآن کی تعلیم کو اُن کی مثال اور ان کو ممثلہ نہیں فرما سکتے۔ ۔ وہ جو آپ فرماتے ہیں کہ گویا میں نے کہا کہ قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ یہ بہانہ مکاری سفید (۱۸۲ ہیں کہ میںنے کہا کی سفید پوشوں کے کپڑے اتار لیں ۔ بجواب اس کے عرض ہے کہ میں نے ایسا کبھی نہیں کہا جناب نے غلط فہمی کی ہے۔ یہ میں نے ضرور کہا لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ ے میں اکراہ وہ بھی تو متصور ہو سکتا ہے جو بعض اہل اسلام کسی سفید پوش کو دیکھ کر اور اُس سے سلام علیک سن کر کہہ دیتے تھے کہ تو مسلمان نہیں تو مکاری سے سلام علیک کرتا ہے اور اُسے مار ڈالتے تھے اور کپڑے اتار لیتے تھے۔ ایسوں کے بارہ میں یہ آیت ہو سکتی ہے کہ ایسا اکراہ دین کے معاملہ میں مت کرو نہ وہ اکراہ جو ایمان لانے کے لئے ہو جس کے واسطے ہم نے بہت سی آیات ناطق قرآن ہی سے پیش کی ہیں ۔ البقرة : ۲۵۷