جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 502

جنگ مقدّس — Page 279

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۷۷ جنگ مقدس معلوم ہو کہ سمندر سے ہی آفتاب نکلا اور سمندر میں ہی غروب ہوتا ہے۔ قرآن نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ علم ہیئت کے موافق بیان کیا جاتا ہے ہر روز صد با استعارہ بولے جاتے مہیں مثلاً اگر آپ یہ کہیں کہ آج میں ایک رکابی پلاؤ کی کھا کر آیا ہوں تو کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ آپ رکابی کو کھا گئے اگر آپ یہ کہیں کہ فلاں شخص شیر ہے کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ اس کے پنجے شیر کی طرح اور ایک دم بھی ضرور ہو گی۔ انجیل میں لکھا ہے کہ وہ زمین کے کنارہ سے سلیمان کی حکمت سننے آئے حالانکہ زمین گول ہے کنارہ کے کیا معنے ۔ پھر یسعیاہ باب کے میں یہ آیت ہے ساری زمین آرام سے اور ساکن ہے مگر زمین کی تو جنبش ۱۴ ثابت ہو چکی ۔ ع ۔ جہاں چھ ماہ تک سورج نہیں چڑھتا روزہ کیوں کر رکھیں ۔ غ ۔ اگر ہم نے لوگوں کی طاقتوں پر اُن کی طاقتوں کو قیاس کرنا ہے تو انسانی قومی کی جڑھ جو حمل کا زمانہ ہے مطابق کر کے دکھلانا چاہیے پس ہمارے حساب کی اگر پابندی لا زم ہے تو ان بلاد میں صرف ڈیڑھ دن میں حمل ہونا چاہیے اور اگر اُن کے حساب کی تو دو سو چھیاسٹھ برس تک بچہ پیٹ میں رہنا چاہیے اور یہ ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ حمل صرف ڈیڑھ دن تک رہتا ہے لیکن دو سو چھیاسٹھ برس کی حالت میں یہ تو ماننا کچھ بعید از قیاس نہیں کہ وہ چھ ماہ تک روزہ بھی رکھ سکتے ہیں کیونکہ اُن کے دن کا یہی مقدار ہے اور اس کے مطابق اُن کے قومی بھی ہیں ۔ ع۔ رحم عدل کے بعد ہوتا ہے اور گوڈنس یعنی احسان پہلے ۔ غ ۔ احسان کوئی صفت نہیں بلکہ رحم کی صفت کا نتیجہ ہے مثلاً یہ کہیں گے کہ فلاں شخص پر مجھ کو رحم آیا ۔ یہ نہیں کہیں گے کہ فلاں شخص پر مجھ کو احسان آیا۔ رحم بیماروں پر آتا ہے۔ رحم کمزوروں پر آتا ہے ۔ رحم بچوں پر آتا ہے اور اگر کسی بد معاش قابل سزا پر بھی آوے تو ایسی حالت میں آتا ہے کہ جب وہ ضعیفوں اور نا تو انوں کی طرح رجوع کرے۔ پھر اصل مور درحم ضعف اور نا توانی ہوئی یا کچھ اور ہوا۔