جنگ مقدّس — Page 274
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۷۲ جنگ مقدس اجازت دی کہ اپنے پاس رہنے دو۔ پھر اس میں ظلم کون سا ہے ۔ اہل کتاب کے واسطے جزیہ گذاری اور ذلت ، قرآن نے قرار دی ہے وہ بے شک قتل عام سے تو مستثنیٰ کئے گئے ہیں لیکن آپ نہیں کہہ سکتے کہ جزیہ گذاری اور ذلت خواری سے گذار نا کوئی چنگی نہیں اور وہ بے ایذا مطلق ہے۔ خواہ نخواہ کچھ تو ایذا اس میں ہے ۔ آگے ہم تو اریخ کا حوالہ آپ کو کچھ نہ دیں گے کہ کیا کچھ گزرا ہے۔ ہم نے صرف قرآن کو لیا ہے اسی کے اوپر اعتراض کرتے ہیں اور نہیں کرتے ہیں ۔ جناب گوڈنس کو شعبہ مرسی یعنی رحم کا قرار دیتے ہیں لیکن مجھ کو معاف رکھیے کہ یہ ایک ایسی غلطی ہے کہ عام غور کرنے والا سمجھ سکتا ہے گوڈنس وہ ہے جو حق سے زیادہ احسان دکھلاتی ہے اور رحم وہ ہے جو مواخذہ عدل سے چھوڑا تا ہے لیکن جناب کو خواہ نخواہ مد نظر یہ ہے کہ کہیں تعلیم کفارہ کی ثابت نہ ہو جائے اس لئے آپ ان باتوں کے سمجھنے کو پسند نہیں فرماتے ۔ یہ ایک عجیب امر آپ فرماتے ہیں کہ رحم کو تقدیم ہے عدل کے اوپر ۔ اور عجب اس میں یہ ہے کہ رحم مواخذہ پر آتا ہے یعنی مواخذہ عدل پر تو اُس کو تقدیم کیونکر ہوئی ۔ درست کہنا تو یہ ہے کہ ہر صفت اپنے اپنے موقع پر ظہور کرتی ہے اور وہ جو چند باتیں جناب رحم کے متعلق سمجھتے ہیں در حقیقت گوڈنس کے متعلق ہیں رحم سے ان کا علاقہ کچھ نہیں ۔ تھوڑی سی شرح کے واسطے گوڈنس کی تعریف ہم اور بھی کر دیتے ہیں۔ مثال ۔ اگر کوئی شخص اپنے جانوروں کو اچھی طرح سے نہلاتا۔ کھلاتا۔ پلاتا ہے۔ اس سے زیادہ کہ اگر اُس کو چھوڑ دیا جائے تو کبھی میسر نہ ہوتو یہ گوڈنٹس ہے۔ اور اگر کوئی شخص اپنے جانوروں کو جو اُس کی حفاظت میں میں ایزاد یوے اور اس ایزا میں وہ خوش ہو۔ یہ وہ امر ہے کہ گوڈنس کے برخلاف ہے ہر ایک مخلوق جو عدم سے بوجود آتا ہے۔ اس کے کچھ حقوق اپنے خالق پر ہیں۔ چنانچہ ایک یہ کہ وہ اُن کو ہر حاجت میں دکھ دینے والے ۱۷۴ سے برگی رکھے یہاں تک عدل ہے مگر جو اس سے بڑھ کر اُن کو سکھ کی افزونی دیوے یہ گوڈنس