جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 502

جنگ مقدّس — Page 269

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۶۷ جنگ مقدس عدل کے بعد ظہور میں آوے۔ ایسا ہی توریت میں ہے عزرا و نحمیاہ شد و از بور ہے ۔ اور نیز آپ کا یہ قول جو بار بار پیش کر رہے ہیں جو رحم اور عدل کی گویا با ہم لڑائی ہے اور اس لڑائی کے فرو کرنے کے لئے کفارہ کی تجویز ہوئی یہ آپ کا بیان سراسر غلط ہے اس بات میں کچھ بھی شک نہیں کہ گناہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب اوّل قانون فرمانبرداری کا شائع ہو ﴿۱۲۹) جائے کیونکہ نا فرمانی فرمانبرداری کے بعد ہوا کرتی ہے۔ پھر جبکہ یہ صورت ہے تو صاف ظاہر ہے کہ جب قانون نازل ہوگا اور خدائے تعالیٰ کی کتاب اپنے وعدوں کے مطابق عمل درآمد کرے گی یعنی اس طرح کے احکام ہوں گے کہ فلاں شخص فلاں نیک کام کرے تو اُس کا اجر یہ ہو گا یا بد کام کرے تو اُس کی سزا یہ ہو گی تو اس صورت میں کفارہ کا دخل کسی طور سے جائز نہیں جبکہ وعدہ وعید کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے تو اس صورت میں ایک بیٹا نہیں اگر ہزار بیٹے بھی صلیب پر کھینچے جاویں تب بھی وعدہ میں تختلف نہیں ہو سکتا اور کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو توڑتا ہے اور جبکہ تمام مدار وعدوں پر ہے کسی حق پر نہیں ہے تو وعدوں کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے آپ کا یہ بار بار فرمانا کہ حقوق کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے مجھے تعجب دلاتا ہے ۔ آپ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ کے مقابل کسی کا حق نہیں ہے اگر حق ہوتا تو پھر خدا تعالیٰ پر صد با اعتراض ہر طرف سے قائم ہوتے جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ کیڑے مکوڑے اور ہر ایک قسم کے حیوانات جو خدائے تعالیٰ نے پیدا کئے کیا یہ مواخذہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں ایسا کیوں بنایا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ بھی قبل از تنزیل کتاب یعنی کتاب بھیجنے سے پہلے کسی پر مواخذہ نہیں کرتا۔ اور یوں تو خدا تعالیٰ کے حقوق اُس کے بندوں پر اس قدر ہیں کہ جس قدر اُس کی نعمتیں ہیں یعنی شمار میں نہیں آسکتے لیکن گناہ صرف وہی کہلائیں گے جو کتاب نازل ہونے کے بعد نا فرمانیوں کی مد میں آجائیں گے اور جبکہ یہ صورت ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ دراصل عام طور پر اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ وہ لاتعداد لا تحصی ہیں بلکہ نا فرمانیوں کا مواخذہ کرتا ہے ۔ اور نا فرمانیاں جیسا کہ میں