جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 502

جنگ مقدّس — Page 258

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۵۶ جنگ مقدس تعاقب کرو تو اسی قدر کرو جو انہوں نے کیا ہو۔ وَ لَن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصُّبِرِينَ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے اچھا ہے اور پھر اہل کتاب کا گناہ جتلانے کے لئے فرمایا - ياهل الكتب لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ مَنْ مَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا اے اہل کتاب کیوں ایمان لانے والوں کو ایمان لانے سے روکتے ہو اور بھی اختیار کرتے ہو۔ پس یہی باعث تھا کہ اہل کتاب کے ساتھ لڑائی کرنی پڑی کیونکہ وہ دعوت حق کے مزاحم ہوئے اور مشرکوں کو انہوں نے مددیں کیں اور ان کے ساتھ مل کر اسلام کو نابود کرنا چاہا جیسا کہ مفصل ذکر اس کا قرآن شریف میں موجود ہے تو پھر بجر لڑنے اور دفع حملہ کے اور کیا تد بیر تھی مگر پھر بھی ان کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا حَتَّى يُعطوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَ هُمْ صَغِرُونَ العن اس وقت تک ان سے لڑو جب تک یہ جزیہ ذلت کے ساتھ دے دیں اور صاف طور پر فرما دیا یعنی جہاد میں یعنی لڑنے میں اسلام سے ابتدا نہیں ہوئی جیسا کہ فرماتا ہے۔ وَهُمْ بَدَءُ وُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ " یعنی انہیں مخالفوں نے لڑنے میں ابتدا کی پھر جبکہ انہوں نے آپ ابتدا کی۔ وطن سے نکالا ۔ صدہا بے گناہوں کو قتل کیا تعاقب کیا اور اپنے بتوں کی کامیابی کی شہرت دی تو پھر بجز ان کی سرکوبی کے اور کونسا طریق حق اور حکمت کے مناسب حال تھا۔ اس کے مقابل حضرت موسی کی لڑائیاں دیکھئے جن لوگوں کے ساتھ ہوئیں کون سی تکلیفیں اور دکھ ان سے پہنچے تھے اور کیسی بے رحمی ان لڑائیوں میں کی گئی کہ کئی لاکھ بچے بے گناہ قتل کئے گئے ۔ دیکھو ۳۱ باب ۱۷ آیت گنتی استثنا ۲۰ باب ۱۔ سموئیل اول 12 پھر سموئیل اول ۲ پھر استثنا اور ان آیات کے رو سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ پہلے صلح کا پیغام بھی بھیجا جاتا تھا جیسا اشب ۱۰۲ سے ظاہر ہے اور نیز جزیہ لینا بھی ثابت ہے جیسے قاضیوں کی کتاب باب اول ۲۸ ۳۰ ۳۳۱ و ۳۵ اور یوشع (باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی ۲۰ غلام قادر صحیح پریزیڈنٹ ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان از جانب اہل اسلام النحل : ۱۲۷ ال عمران : ١٠٠ ٣ التوبة : ٢٩ ٢ التوبة : ١٣ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” استثناء ۲۰/۱۰ “ ہونا چاہیے۔(ناشر)