جنگ مقدّس — Page 253
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۵۱ جنگ مقدس میں کہتا ہوں کہ اگر روح القدس کسی عظیم الجثہ جانور کی شکل پر جیسے ہاتھی یا اونٹ حضرت مسیح پر نازل ہوتا تو کچھ ناز کی جگہ تھی لیکن ایک چھوٹے سے پر ناز کرنا اور اس کو بے مثل کہنا بے محل ہے۔ دیکھو حواریوں پر بقول ان کے روح القدس بطور آگ کے شعلوں کے نازل ہوا اور شعلہ کبوتر پر غالب ہے کیونکہ اگر کبوتر شعلہ میں پڑے تو جل جاتا ہے۔ اور آپ کا یہ فرمانا کہ کون سا نبی مسیح کے مساوی ہے صرف اپنی خوش اعتقادی ظاہر کرنا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا حضرت موسیٰ مسیح سے بڑھ کر نہیں جن کے لئے بطور تابع اور مقتدی کے حضرت مسیح آئے اور ان کی شریعت کے تابع کہلائے۔ معجزات میں بعض نبی حضرت مسیح سے ایسے بڑھے کہ بموجب آپ کی کتابوں کے ہڈیوں کے چھونے سے مردے زندہ ہو گئے اور مسیح کے معجزات پراگندگی میں پڑے ہیں کیونکہ وہ تالاب جس کا یوحنا باب میں ذکر ہے۔ حضرت مسیح کے تمام معجزات کی رونق کھوتا ہے اور پیش گویاں کا تو آگے ہی بہت نرم اور پتلا حال ہے اور پھر کس عملی ۱۵۴۶ اور فعلی فضیلت کے رو سے حضرت مسیح کا افضل ہونا ثابت ہوا۔ اگر وہ ضمناً افضل ہوتے تو حضرت یوحنا سے اصطباغ ہی کیوں پاتے ۔ اس کے رو برو اپنے گناہوں کا اقرار ہی کیوں کرتے اور نیک ہونے سے کیوں انکار کرتے اگر الوہیت ہوتی تو شیطان کو یہ کیوں جواب دیتے کہ لکھا ہے بجز خدا کے کسی اور کو سجدہ مت کر ۔ اور آپ نے جو میرے اس بیان پر جرح فرمایا ہے کہ قرآن شریف میں یہ آیت درج ہے کہ تمہارے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔ یہ آپ کی غلط نہی تو نہیں مگر تجاہل عارفانہ ہے ۔ میں کل کے بیان میں لکھا چکا ہوں کہ اس کے وہ معنے نہیں جو آپ کرتے ہیں بلکہ صرف اس قدر مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے امر اور حکم کے موافق چلنا چاہیے تمہیں کچھ بھی اختیار نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی دخل دو ۔ اب دیکھئے کجا یہ بات کہ بندہ مجبور محض ہے اور کجا یہ بات کہ ایک موقعہ پر بعض لوگوں کو بے جا دخل سے روکا گیا۔ اور پھر میں کہتا ہوں چاہے آپ سینیں یا نہ سنیں کہ قرآن شریف نے بصراحت با ر ہا اس اختیار کا ذکر کر دیا ہے جس کی وجہ سے انسان مکلف ہے لیکن دوسرے مقامات میں بعض مذاہب باطلہ کے رد کرنے کے لئے جو عرب میں موجود تھے