جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 502

جنگ مقدّس — Page 249

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۴۷ فعل مختار مطلق ہے اور اس کا انکار آپ عبث کرتے ہیں۔ جنگ مقدس ہفتم۔ یسعیا کا بیان کہ وہ سلامتی اور بلا پیدا کرتا ہے فعل مختاری کے برخلاف کچھ نہیں۔ نہ معلوم جناب نے کیوں حوالہ اس آیت کا دیا۔ فرعون کا دل سخت کیونکر ہوا۔ ہم نے اس کی شرح کل کر دی ہے یعنی اس کو جب شرارت سے نہ روکا اور فضل کا ہاتھ پرے کر لیا تو اس کا نتیجہ یہ (۱۵۰) ہے کہ وہ خواہ نخواہ سخت دل ہو گیا۔ کیا جناب اس امر کو نہیں سمجھتے کہ کرنے اور ہونے دینے میں بڑا فرق ہے۔ انگریزی میں صاف فرق ہے کہ مشن اس کو کہتے ہیں کہ خود کرے اور پر مشن اس کو کہتے ہیں کہ ہونے دے۔ تو ہونے دینے کا کیا الزام مساوی اس کے ہے کہ اس نے کیا۔ اور اگر ایسا ہی الزام ہو تو صحیح نہیں ہوسکتا۔ ہشتم ۔ آپ کی تیسری مثل میں کہ شریروں کو اپنے لئے بنایا اس کا مطلب صاف ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ شریر ہونے دیا۔ یہ بھی وہی پر مشن ہے نہ کہ مشن ۔ کلام مجازی کو اور عامہ کو چھوڑ کے آپ فلاسفی میں کس لئے گھتے ہیں۔ کیا عوام سے جناب کلام اسی طرح پر کرتے ہیں کہ ہر ایک لفظ اس کا فلوز افیکل ہو دے یعنی مطابق فلاسفی کے۔ تاہم وہ آیت جو زیر داب تنازعہ کے ہے۔ اس میں اصول قائم کیا گیا ہے کہ گویا خدا فرماتا ہے کہ ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے اور اس اصول کا بیان اس فروع پر ہے۔ جو کہتے تھے کچھ بھی کام ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہاں یہ کلیہ کبری ہے اور قیاس مردمان صغری ہے۔ نتیجہ جو اس کا ہے آپ انصاف کر لیجئے۔ نم مسیح بہ نسبت اپنی انسانیت کے سارے فرائض الہی ادا کرنے والا ہے پس وہ امتحان بھی دے گا اور شیطان سے آزمایا بھی جائے گا۔ لہذا کیا ضرور ہے کہ اس امر کو اختیا رونا اختیاری کی بحث میں داخل کیا جائے ۔ وہم ۔ نہ ہم نے کہیں خدا کے اختیار کو کسی حد میں قید کیا مگر وہ قیود جو ہر صفت پر اس کے خاصہ سے لازمی ہے۔ مثلاً ہم اس کو قادر مطلق کہتے ہیں۔ اس کے معنے یہ نہیں ہو سکتے کہ وہ نقیضین کو آن واحد میں جمع بھی کر سکتا ہے کیونکہ اجماع نقیضین دوسرا نام بطلان کا ہے اور بطلان کوئی صفت نہیں چاہتا ہے کہ جو اس کو بناوے مگر صرف کہانا صداقت کا۔ تو قادر مطلق کے یہ معنے ہیں کہ جو مکن ہے اس کو بناوے اور جو ناممکن ہے اس کے بنانے کی احتیاج کچھ نہیں۔ وہ تو صرف جھوٹ بولنے